ذیابیطس: ایشیا کا ’خاموش قاتل‘

Image caption بھارت میں ذیابیطس کے مرض میں ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ افراد مبتلا ہیں

ذیابیطس کا مرض ایشیا میں وبائی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کا انسانی اور مالیاتی بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور غربا بطور خاص اس کے نشانے پر ہیں۔

عام طور پر اسے امیروں کی بیماری سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض میں بے لگام اضافہ جس قدر خوراک کی زیادتی کا نتیجہ ہے اسی قدر خوراک کی کمی اور عدم تحفظ کے احساس کا نتیجہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہوا طرزِ زندگی، شہروں کی طرف ہجرت کے تیز ہوتے ہوئے عمل اور پراسسڈ فوڈ کی شکل میں سستے حراروں (کیلوریز) سے لوگوں میں ذیابیطس درجہ دوم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریبا 38 کروڑ 20 لاکھ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے نصف سے زیادہ ایشیا اور مغربی بحرالکاہل کے علاقوں میں آباد ہیں جہاں 90 تا 95 فی صد لوگ ذیابیطس کے درجہ دوم کے مرض میں مبتلا ہیں۔

اس معاملے میں چین سب سے آگے ہے جہاں تقریباً دس کروڑ افراد کو یہ عارضہ لاحق ہے جو کہ عالمی تناسب کا دس فی صد ہے۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کی پروفیسر جولیانا چان کا کہنا ہے کہ مرض کے اس قدر تیزی سے پھیلنے کے پیچھے پیچیدہ قسم کی باتیں ہیں جو جینیاتی فطرت، طرزِ زندگی، ماحولیات اور چین میں تیزی سے آنے والی جدیدیت کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ذیابیطس مجموعۂ تضادات ہے۔ یہ بطور خاص بڑھاپے کا مرض ہے لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ درمیانی عمر کے افراد اور نوجوان اس کا زیادہ شکار ہیں۔ موٹے لوگوں میں یہ عام طور سے پایا جاتا ہے لیکن تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اگر دبلے پتلے اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔‘

اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا چین وسیع پیمانے پر موجود اس مرض سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

چین نے اس مرض کے لیے صرف گذشتہ سال 17 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اگر ذیابیطس کے مریضوں کو سرکاری سہولیات فراہم کی جائیں تو چین میں صحت عامہ کے بجٹ کا نصف صرف اس مرض سے لڑنے میں خرچ ہو جائے گا۔

پروفیسر چان کا کہنا ہے کہ ’ایک بے آواز معاشرے میں ذیابیطس ایک خاموش قاتل کی طرح ہے۔‘

کہا جاتا ہے کہ غریبی اور عدم معلومات کی لعنت کی وجہ سے اس مرض کی تشخیص بہت دیر سے ہو پاتی ہے اور اس کے نتیجے میں گردے فیل ہونا، دل کی بیماری اور بینائی سے محرومی عام طور پر دیکھی جاتی ہے۔

پروفیسر چان کا کہنا ہے کہ ’چینی رہنماؤں کو صحتِ عامہ کے شعبے میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

آئی ڈی ایف کے ایک تجزیہ نگار لیونور گوری گواتا کا کہنا ہے کہ ’بھارت اور چین یکساں حالات سے دوچار ہیں کیونکہ وہاں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور ان کے پاس اپنے صحت کے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے وسائل موجود ہیں۔‘

چین کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے اور یہاں ساڑھے چھ کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ 25 سالہ کنمنی امید سے ہیں اور جنوری میں ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہونے والی ہے۔ دو ماہ قبل انہیں پتہ چلا کہ وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔

کنمنی خوش قسمت ہیں کہ وہ چینّئی میں رہتی ہیں جہاں حاملہ خواتین کے لیے یونیورسل سکریننگ کی سہولت دستیاب ہے۔ اگر بروقت اس معاملے کی جانچ نہ ہو تو زچہ و بچہ دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Image caption یہ اعداد و شمار آئی ڈی ایف سے لیے گئے ہیں

بھارت میں رواں سال ذیابیطس سے دو کروڑ دس لاکھ بچوں کی ولادت متاثر رہی ہے۔

چینّئی کی ڈاکٹر آر ایم انجنا کا کہنا ہے کہ ’بھارت میں حمل کے ذیابیطس کو لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے کیونکہ ان کے مطابق یہ صرف ایک دفعہ کی بات ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’بچے کی پیدائش کے بعد یہ مرض ختم ہو جاتا ہے لیکن پانچ سال کے اندر ہی 70 سے 80 فی صد خواتین کو ذیابیطس درجہ دوم کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔‘

کہا جاتا ہے کہ جو بچے ایسے صورت حال میں پیدا ہوتے ہیں انھیں بعد میں اس مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بھارت کے بعد امریکہ، برازیل، روس، میکسیکو، انڈونیشیا، جرمنی، مصر اور جاپان آتے ہیں۔

اسی بارے میں