سنیپ چیٹ کا فیس بک اور ٹوئٹر سے مقابلہ

Image caption تئیس سالہ آئیون شپيگل نے سنیپ چیٹ 2011 میں شروع کی اور اب اس کے لاکھوں صارفین ہیں

جب وہ 23 سال کے ہوئے تو انھوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کو خیرباد کہہ کر اپنا کام شروع کر دیا جس میں انہیں سلیکن ویلی میں وینچر کیپیٹل سے منسلک بڑے شخصیات سے مدد ملی۔

ہم بات کر رہے ہیں سنیپ چیٹ کے بانی آئیون شپیگل کی۔ وہ اگلے ڈاٹ كام ارب پتی ہو سکتے ہیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ان کی سوچ کے مطابق لوگ سوشل میڈیا کے لیے بھی پیسے خرچ کریں گے۔

سنیپ چیٹ 25 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے ہے اور یہ بے حد مشہور موبائل ایپلیکیشن ہے جس میں صارف ایک دوسرے کو تصاویر بھیج کر بات چیت کرتے ہیں لیکن یہ تصاویر کچھ ہی سیکنڈ میں خود بخود ختم یا ڈیليٹ ہو جاتی ہیں۔

اس ہفتے آئیون شپیگل جب پہلی بار لندن آئے تھے تو انہوں نے مجھے اس کا استعمال کر کے بتایا۔

ان کا یہ ایپ ستمبر 2011 میں شروع ہوا تھا۔ وہ کوئی اعداد و شمار تو پیش نہیں کرتے لیکن ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے تمام سمارٹ فونز میں سے ایک چوتھائی میں یہ ایپ دستیاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر برطانیہ کے 70 لاکھ لوگ سنیپ چیٹگ کرتے ہیں۔

پرائیویسی کی گنجائش

Image caption سنیپ چیٹ کے بانی آئیون شپيگل کا کہنا ہے کہ ’عارضی میڈیا‘ کا خیال اپنے آپ میں منفرد ہے جس کے تحت تمام تصاویر کچھ دیر میں ڈیلیٹ کر دی جاتی ہیں

لیکن سنیپ چیٹ کے بانی آئیون شپیگل کا کہنا ہے کہ ’عارضی میڈیا‘ کا خیال اپنے آپ میں منفرد ہے اور یہ بات ثابت ہو رہی ہے۔ اس میں آپ کسی سے آن لائن بات چیت کر رہے ہیں تو اس بات کا کوئی نام و نشاں نہیں ملتا۔

پہلے چند ماہ تک اس خیال کے بارے میں بتانا بڑا مشکل تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ پڑھنے والے طالب علم ہی قربانی کا بکرا بنے ہوں گے جنہیں اس کے بارے میں کافی کچھ سننا پڑا ہوگا۔

انہوں نے مجھے بتایا ’سٹینفورڈ میں سب لوگ ایپلکیشنز بنا رہے ہیں اس لیے وہ میری مدد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے تھے۔‘

لیکن گذشتہ سال کے ابتدائی مہینوں میں یہ ایپ سکولوں میں زیادہ مشہور ہوئی۔ اسے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے تیزی سے سیکھ لیا کیونکہ انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ بات چیت کے لیے سوشل نیٹ ورک کے مقابلے میں بہتر ذریعہ ہے اور اس میں دنیا کے لوگ زیادہ تاک جھانک نہیں کر سکتے ہیں۔

اس رجحان سے سنیپ چیٹ کے بارے میں دو عام مفروضے بنے ہیں کہ اس کا استعمال ’سیکسٹنگ‘ یا جنسی نوعیت کی پیغام رسانی کے لیے کیا جاتا ہے جس میں نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ جنسی افعال کے دوران یا ان پر مبنی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔ فیس بک پر ایسی تصاویر شیئر کرنا انتہائی خطرناک ہے۔

آئیون شپیگل کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسے مسئلے میں کافی اسٹریٹجک ہونے کی کوشش کی ہے۔ سیكسٹنگ کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’کسی نتیجے پر فوری طور پر پہنچ جانا بہت آسان ہے جبکہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سنیپ چیٹ کا استعمال دن بھر کیا جاتا ہے اور یہ کئی طرح سے استعمال میں آتا ہے۔ زیادہ تر عورتیں ہی اس کا استعمال کرتی ہیں۔‘

کاروباری حکمت عملی

Image caption سنیپ چیٹ نے فیس بک کی جانب سے مبینہ تین ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کر دی ہے مگر اس کے بانی کو چین سے سرمایہ کاری کی امید ہے

حال ہی میں فیس بک کے اس انکشاف لوگوں کو حیرت ہوئی جب اس کے اہم مالیاتی افسر نے انکشاف کیا کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں ان کے نیٹ ورک پر کم وقت گزار رہے ہیں۔

اگرچہ شپیگل کا کہنا ہے کہ فیس بک اور سنیپ چیٹ دونوں کے لیے کافی امکانات ہیں۔ حال میں ایڈریس انالیسس کے ایک جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنیپ چیٹ اور وٹس ایپ جیسے پیغام رسانی ایپ کا فیس بک پر جو اثر پڑ رہا ہے اسے بلاوجہ مبالغے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں 80 لاکھ سے زیادہ لوگ موبائل پیغام رسانی کی ایپس کا استعمال کرتے ہیں اور آدھے لوگوں کی عمر 16 تا 24 سال تک ہے جو اس کا روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

حالانکہ اس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فیس بک اس عمر کے طبقے میں سب سے زیادہ موثر ہے اور تقریباً 70 فیصد لوگ ہر روز اس کا استعمال اپنے فون پر کرتے ہیں۔

لیکن میں اس بات کا جواب چاہتا ہوں کہ آخر سنیپ چیٹ کی رقم کمانے کی حکمتِ عملی کیا ہے؟

شپیگل مکمل تفصیلات دینے سے احتراز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ چیزیں حیران کرنے کے لیے چھوڑ دینی چاہیے۔ وہ ان منصوبوں کے بارے میں بتاتے ہیں جس میں صارفین کو اضافی خدمات کے لیے رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

حالانکہ یہ بات کچھ ٹھیک نہیں لگتی کیونکہ فیس بک اور ٹوئٹر کو بھی آمدنی کے ذرائع کے لیے کئی طرح کے اشتہارات پر انحصار کرنا پڑا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ جن صارفین کو مفت خدمات حاصل کرنے کی عادت پڑی ہو ان کی اس کے لیے ادائیگی کرنے کے لیے کس طرح حوصلہ افزائی کی جائے۔

چین سے سرمایہ کاری کی امیدیں

Image caption آئیون شپيگل سرمایہ کاری کے لیے سلیکن ویلی کی بجائے چین کی طرف دیکھ رہے ہیں جس سلسلے میں وہ وی چیٹ کی مثال دیتے ہیں

آئیون شپیگل سرمایہ کاری کے لیے سلیکن ویلی کی بجائے چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ وي چیٹ کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’انہوں نے اپنا کاروبار میں اشتہارات کی مانگ کے نہ ہونے کے باوجود اضافہ کیا ہے۔ انہیں اس کے لیے گیمنگ اور ان ایپس پر انحصار کرنا پڑا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا بزنس سہولت کی طرح دیکھے جاتے ہیں اس لیے لوگ ان کے لیے ادائیگی نہیں کریں گے لیکن سنیپ چیٹ جیسے ایپ تفریح کی مصنوعات ہیں اور لوگ تفریح کے لیے خوب پیسے ادا کرتے ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک ایسے ایپ کو سرمایہ کاری کے لیے چنا جا سکتا ہے جس کا استعمال خاص طور پر نوجوان کرتے ہیں جن کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں؟

بلیک بیری کی بي بي ایم پیغام رسانی کی سروس کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی مفروضے تھے۔ بي بي ایم کے لاکھوں صارفین ہیں اور اب یہ اینڈروئیڈ اور آئی او ایس پر بھی دستیاب ہے لیکن یہ بلیک بیری کی منڈی اور کاروبار میں گراوٹ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا۔

لیکن سنیپ چیٹ نے اصل میں ڈیجیٹل دور کی نئی نسل کو لبھانے کی کوشش کی ہے جو فیس بک اور ٹوئٹر کے استعمال کے بغیر بھی انتہائی قریبی دوستوں سے اشتراک کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

جب میں نے شپیگل سے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ کیا فیس بک ان کے اس کاروبار کو خریدنے کی کوشش کر سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ آزاد ہی رہنا چاہیں گے۔

ہماری ملاقات کے چند گھنٹے بعد خبریں آئیں کہ سنیپ چیٹ نے فیس بک کی جانب سے تین ارب ڈالر کی آفر مسترد کر دی ہے۔

لیکن یہ بات قطعی حیران کن نہیں ہوگی اگر جلد ہی کوئی سنیپ چیٹ کے لیے دوبارہ کئی ارب ڈالر کی پیشکش کر دے۔

اسی بارے میں