جینیاتی طور پر تبدیل کردہ زیتون کی مکھیاں

Image caption اس تجربے کا مقصد زیتون کی فصل پر آنے والی مکھیوں کا مقابلہ ایسی نر مکھیوں سے کرنا ہے جن میں مادہ مکھیوں کو مارنے کے جین ہوں گے

برطانیہ کی ایک حیاتیاتی ٹیکنالوجی کمپنی نے یورپ میں پہلے جینیاتی طور پر تبدیل کردہ حشرات کے تجربات کی اجازت طلب کی ہے۔

اگر اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو اوگزی ٹیک نامی یہ کمپنی چھوٹے پیمانے پر جینیاتی طور پر تبدیل کردہ زیتون کی مکھیوں پر سپین میں تجربات کرے گی۔

اس تجربے کا مقصد زیتون کی فصل پر آنے والی مکھیوں کا مقابلہ ایسی نر مکھیوں سے کرنا ہے جن میں مادہ مکھیوں کو مارنے کے جین ہوں گے۔

اگر جینیاتی طور پر تبدیل کردہ مکھیاں جنگلی مکھیوں سے زیادہ پرورش پاتی ہیں تو ساری مادائیں مر جائیں گی جس سے زیتون کی مکھی کی آبادی کم ہو جائے گی۔

اس ٹیکنالوجی کو اوگزی ٹیک کے شریک بانی اور چیف سائنٹفک آفیسر ڈاکٹر لوک ایلفی نے بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مکھی زیتون کی پیداوار کی سب سے بڑی دشمن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک برے سال میں ان سے آپ کی پوری کی پوری زیتون کی فصل تباہ ہو سکتی ہے، ان پر قابو پانا بہت مشکل ہو رہا ہے اور اس پر قابو حشرات کش ادویات سے پایا جاتا ہے مگر اب اس کے خلاف بہت زیادہ مدافعت پائی جاتی ہے۔‘

زیتون یورپ کی اہم منافع بخش فصل ہے اور زیتون کے باغ یورپ میں پچاس لاکھ ہیکٹر تک رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

اوگزی ٹیک کے مطابق یونان میں زیتون کی صنعت تقریباً ساڑھے تین کروڑ یورو سالانہ صرف حشرات کش ادویات پر خرچ کرتی ہے تاکہ اس صنعت کو 65 کروڑ یورو کے نقصان سے بچایا جا سکے۔

برازیل میں اوگزی ٹیک اور اس کی ساتھی کمپنیاں ایسی ہی مکھیوں کا استعمال کر رہی ہیں جن میں مارنے والے جین موجود ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے تحت مکھی کے انڈوں میں ایسے جینیاتی کوڈ پر مشتمل جین ڈالے جاتے ہیں جو مکھی کی نشونما کے دوران ہی اس کو مار دیتے ہیں۔

Image caption برازیل میں حالیہ تجربات کے نتیجے میں کمپنی نے ڈینگی کی مکھیوں میں چھیانوے فیصد کمی کی اطلاع دی ہے

سائنسدانوں نے اپنی اس کے جین میں ایسی ترمیم کی ہے جس کے تحت یہ خاص طور پر مادہ مکھیوں کو ہی ہلاک کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صرف نروں پر مشتمل آبادی تیار ہوتی ہے۔

اس کے طریقۂ کار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ایلفی نے کہا کہ جب ان نر مکھیوں کو جنگل میں چھوڑا جاتا ہے تو یہ مادہ مکھیوں کی تلاش میں نکلتے ہیں اور ان کے ساتھ تولیدی عمل کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ اس جین کو لے کر پیدا ہوتے ہیں اور بڑے ہو کر مر جاتے ہیں۔

برازیل میں حالیہ تجربات کے نتیجے میں کمپنی نے ڈینگی کی مکھیوں میں 96 فیصد کمی کی اطلاع دی ہے۔

سائنس دانوں اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی پھلوں کی مکھیوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں جس کی مدد سے مادہ مکھیوں کو مارنے والے نر جین کو استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ایلفی کے مطابق ان کے پاس ’تجربہ گاہ اور پنجروں میں تجربات کا کئی سالوں کا تجربہ ہے اور کریٹ جزیرے میں ایک گلاس ہاؤس میں کیے جانے والے والے تجربات بھی ہیں اور اگلا قدم یہ ہے کہ اسے باغوں تک پہنچایا جائے جس کے لیے سپین کے تجربات کیے جائیں گے۔‘

اگر انہیں سپین کے حکام سے اس کی اجازت مل جاتی ہے تو سائنس دان اسے زیتون کے ایسے درختوں پر چھوڑیں گے جن پر جالی لگی ہو گی تاکہ ماحول میں موجود مکھیاں ان حشرات پر حملہ کر کے انہیں مار نہ دیں۔

تاہم جینیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال پر نظر رکھنے والی ایک کمپنی سے تعلق رکھنے والی ہیلن والس نے اس کمپنی پر تنقید کی ہے۔

ان کے بڑے خدشات میں سے ایک یہ ہے کہ ان حشرات میں جراثیم کش ادویات سے بچاؤ جیسے کئی ناپسندیدہ جینیاتی خصوصیات پیدا ہو سکتی ہیں جیسا کہ جو دوسری مکھیوں میں تولیدی عمل کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ کوئی موثر ٹیکنالوجی نہیں ہے:

’یہ مکھیاں بانجھ نہیں ہیں اور یہ بچے پیدا کریں گی اور ان سے جو بچے پیدا ہوں گے ان کے بارے میں یہ پروگرام کیا ہو گا کہ وہ لاروا بنتے ہی مر جائیں جس کا مطلب ہے کہ بہت سارے جینیاتی طور پر تبدیل کردہ میگوٹس ان زیتون کے درختوں میں ہوں گے۔‘

تاہم ڈاکٹر ایلفی کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے لیے جو فصل سپین میں استعمال کی جائے گی اسے تجربے کے بعد تباہ کر دیا جائے گا اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ان حشرات کے نتیجے میں ماحول پر موثر اثرات مرتب ہوں گے۔

اسی بارے میں