مریخ کا قدیم ترین ٹکڑا ’بلیک بیوٹی‘

Image caption سیاہ حسن نامی مریخ کے اس ٹکڑے کی عمر 4۔4 ارب سال بتائی جا رہی ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ افریقہ کے صحارا ریگستان سے حاصل کی گئی چٹان مریخ سے زمین پر گرنے والی اب تک کی سب سے قدیم چٹان ہے۔

سابقہ تحقیق کے مطابق مريخ سے زمین پر گرنے والے اس شہابیے کو دو ارب سال قدیم قرار دیا گيا تھا لیکن نئی جانچ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ قریب چار ارب 40 کروڑ سال پرانا ہے۔

اس چمکدار اور کالے شہابیے کو ’بلیک بیوٹی‘ یعنی سیاہ حسن کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ یہ سرخ سیارے مریخ کے ابتدائی دور میں بنا ہوگا۔

اس کے متعلق تحقیق سائنس کے معروف جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ مصنف اور امریکہ میں فلوریڈا کی سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر منیر ہمایاں کا کہنا ہے کہ ’یہ چٹان ہمیں مریخ کی تاریخ کے اہم ترین ادوار میں سے ایک کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔‘

کرۂ ارض پر مریخ سے گرنے والے تقریبا 100 شہابیے ہیں اور سب کے سب نئے ہیں اور ان کی عمر 15 کروڑ سے 60 کروڑ سال کے درمیان ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین پر اس وقت گرے ہوں گے جب ستارچوں اور سیارچوں کے زیر اثر یہ سیارہ مریخ سے جدا ہو گئے ہوں گے اور پھر آزادانہ طور پر گردش کرتے ہوئے زمین سے آ ٹکرائے ہوں گے۔

Image caption کرۂ ارض پر مریخ سے گرنے والے تقریبا 100 شہابیے ہیں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص مریخی شہابیہ جو کہ پانچ ٹکڑوں پر مشتمل ہے نسبتاً کافی پرانا ہے۔

مریخ سے آنے والے اس ٹکڑے کو این ڈبلیو اے 7034 کہا جاتا ہے اور پہلے اس کی عمر دو ارب سال تجویز کی گئی تھی۔ لیکن حالیہ تحقیق میں یہ پایا گیا کہ اس کا دوسرا ٹکڑا جسے این ڈبلیو اے 7533 کا نام دیا گیا ہے اس کی عمر 4.4 ارب سال ہے۔

محققوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت وجود میں آیا ہوگا جب مریخ کی اپنی عمر صرف دس کروڑ سال رہی ہوگی۔

پروفیسر ہمایوں نے کہا: ’یہ یقینی طور پر مریخ کی جنوبی پہاڑیوں سے آیا ہے:

’یہ مریخ کی تاريخ کا انتہائی متلاطم دور رہا ہوگا جب اس کی سطح پر جا بجا آتش فشاں پھٹ رہے ہوں گے۔‘

اسی بارے میں