کیا یوگا صرف ہندوؤں کا ہے؟

Image caption یوگا مغرب میں کافی مقبول ہے

یوگا کی کلاس میں بیشتر لوگوں کو اس بات کی فکر رہتی ہے کہ کیا وہ صحیح طریقے سے سانس لے رہے ہیں یا کہ ان کے پیر صحیح سمت میں ہیں؟ لیکن کچھ لوگ اس کشمکش میں رہتے ہیں کہ کیا انہیں اس کلاس میں آنا چاہیے تھا یا کہیں ان کے مذہب پر تو اس کا اثر نہیں پڑ رہا؟

امریکہ میں رہنے والی ایک مسلمان خاتون فريدہ حمزہ نے گذشتہ دو سال تک یوگا کرنے کے بعد اسے سکھانے کا فیصلہ کیا۔

وہ بتاتی ہیں: ’جب میں نے اپنے اہل خانہ اور بعض دوستوں کو اس بارے میں بتایا تو ان کا رد عمل مثبت نہیں تھا۔ وہ کافی حیران تھے کہ آخر میں ایسا کیوں کر رہی ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہ اسلام کے بعض اصولوں کے منافی ہو۔‘

دنیا بھر میں کئی مسلم، عیسائی اور یہودی یوگا کے بارے میں اس طرح کے شکوک ظاہر کرتے ہیں۔ وہ یوگا کو ہندومت اور بدھ مت سے متعلق ایک قدیم روحانی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

گذشتہ سال برطانیہ کے ایک چرچ میں یوگا کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس چرچ کے پادری جان چینڈلر کا کہنا ہے کہ ’یوگا ایک ہندو روحانی ورزش ہے۔ ایک کیتھولک چرچ ہونے کے ناطے ہمیں عیسائیت کی تشہیر کرنی چاہیے۔‘

اس کے علاوہ امریکہ میں بھی پادری یوگا کو ’شیطانی‘ عمل قرار دے چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارت میں سپریم کورٹ جلد ہی اس بابت فیصلہ دینے والی ہے کہ آیا یوگا درحقیقت ایک مذہبی رسم ہے۔

گذشتہ ماہ بھارت میں یوگا کے حامیوں نے عدالت سے اسے تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنانے کی اپیل کی تھی لیکن عدالت نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر اقلیتی برادریوں کی رائے لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔

تو کیا یوگا بنیادی طور پر ایک مذہبی عمل ہے؟ ’یوگا لندن‘ نامی تنظیم کی معاون بانی ریبیکا فرنچ کا کہنا ہے کہ ’یوگا ایک وسیع اصطلاح ہے اور اس وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ یوگا کی کئی اقسام ہیں اور ان میں سے بعضے دوسروں کے مقابلے زیادہ مذہبی ہیں۔ مثال کے طور پر ہرے کرشنا سادھو بھکتی یوگا کے پیروکار ہیں۔

مغرب میں لوگ عام طور پر جسے یوگا سمجھتے ہیں وہ سخت جسمانی ورزش ہے۔ اس میں جسمانی اور ذہنی قوت میں اضافے پر زور ہوتا ہے۔

Image caption یوگا کی جڑیں ہندو مذہبی روایات میں پیوستہ ہیں

کئی ہندوؤں کے مطابق یوگا کے ذریعہ آپ فطرت سے صحیح شکل اور اس کی اصلی حالت کے بارے میں جان سکتے ہیں، جبکہ کئی اسے پیدائش اور موت کے بندھنوں سے نجات حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔

یہ سب عیسائیت، اسلام اور دوسرے مذاہب میں درست ہے یا نہیں یہ ایک بحث کا موضوع ہے۔

مثال کے طور پر ’سوریہ نمسکار‘ یا سورج کو سلام مختلف قسم کی جسمانی ورزش کا ایک مرکب ہے تاہم یہ ہندو دیوتا سورج کی پرستش سے بھی جڑا ہوا ہے۔

ریبیکا فرنچ بتاتی ہیں: ’یہ قدرے مذہبی ہے، لیکن یہ آپ کے نقطۂ نظر پر منحصر ہے۔ گھٹنے ٹیکنے سے عبادت بھی مراد لی جا سکتی ہے اور میں یہ بھی سوچ سکتی ہوں کہ میں تو صرف جھک رہی ہوں۔‘

ایک ہندو مندر میں یوگا سیکھنے کے لیے جاتے وقت فريدہ حمزہ کے ذہن میں بھی ایسے سوالات تھے۔

انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے: ’میں خود کو مجرم مان رہی تھی، لیکن بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ میرے ارادوں سے واقف ہیں۔ میں نے ان لوگوں کو بتا دیا کہ میں کسی مذہبی عمل میں شامل ہونا نہیں چاہتی ہوں اور انہوں نے میرے جذبات کا مکمل احترام کیا۔‘

یوگا کلاس کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ کئی میں ہندو منتروں کا ورد کیا جاتا ہے جبکہ دوسروں میں زندگی بخشنے والي قوتوں اور کائناتی قوتوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

Image caption یوگا کے بعض آسن یعنی پوز پر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اعتراض ہے

کلاس کا اختتام عبادت اور نمستے (ہندو کے سلام کا طریقہ) سے ہوتا ہے۔ کئی بار توجہ کو مرتکز کرنے والے عمل کے دوران اوم منتر کا جاپ یا ورد کیا جاتا ہے۔

لیکن بعض کلاس میں ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا ہے۔

ایران میں یوگا بہت مقبول ہے اور وہاں اسے ایک کھیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یوگا فیڈریشن ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے کہ ٹینس یا فٹ بال فیڈریشن۔ وہاں ہر آسن یا پوز کے جسمانی فوائد کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اسی طرح روحانی یوگا پر ملائیشیا میں بھی پابندی ہے۔

امریکہ میں بھی یوگا کو نئی شکل دی گئی ہے۔ کئی لوگوں نے اشٹانگ یوگا‘ کے نام پر اعتراض کیا تو ان کے نام تبدیل کر دیے گئے۔

کئی اسکولوں میں پدم آسن کو ’کرس کراس ایپل ساس‘ کا نام دے دیا گیا ہے اور سوریہ نمسکار کا نام بدل کر ’اوپننگ سیکونس‘ ہو گیا ہے۔ منتظمین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ محض ایک جسمانی ورزش ہے۔

اس کے باوجود کچھ والدین اور عیسائی تنظیموں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ رواں سال ستمبر میں سینڈیاگو کاؤنٹی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ اگرچہ یوگا کی جڑ مذہب ہے، لیکن اس میں ترمیم کر کے ورزش کے طور پر اسکولوں میں اس کی تعلیم دی جا سکتی ہے۔

مسیحی تنظیم نیشنل سینٹر فار لاء اینڈ پالیسی کے صدر ڈین برائلز بتاتے ہیں کہ مغرب میں بہت سے لوگ یوگا کو غیر مذہبی اس لیے مانتے ہیں کیونکہ یہ منظق کو فروغ دیتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پروٹسٹنٹ عیسائی الفاظ اور ایمان پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جبکہ اشٹانگ یوگا میں مشق اور تجربہ کی بات کہی گئی ہے۔

ہندو تنظیمیں بھی یہ تسلیم کرتی ہیں کہ یوگا کے کچھ تصورات دوسرے مذاہب کے ساتھ متصادم ہو سکتے ہیں لیکن یہ ہندو مذہب کے بعض عقائد کے ساتھ بھی متصادم ہے۔

امریکی عیسائیوں کے لیے ’پریوموو جیسے کچھ دوسرے متبادل بھی ہیں جو یوگا کے عیسائی ورژن ہو سکتے ہیں۔‘

یوگا کلاس میں آنے والے لوگوں کا تجربہ بہت ہی اچھا رہا ہے اور جہاں دوسرے مذاہب کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت سامنے آتی ہے وہاں مرکب ورزش کے ذریعے اس کا حل نکال لیا جاتا ہے۔

ایک ایرانی یوگا ٹیچر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان طالب علموں کا کہنا ہے کہ یوگا کی مشق کرنے کے بعد وہ زیادہ توجہ کے ساتھ نماز ادا کر پاتے ہیں۔

فريدہ حمزہ کہتی ہیں: ’ہم اسلام میں جن تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں، وہ تمام یوگا میں موجود ہیں، جیسے کہ غریبوں کی مدد کرنا، ایک یوگی بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ آپ کو ایماندار ہونا چاہیے، تشدد سے دور ہونا چاہیے اور یہ تمام باتیں اسلام میں بھی ہیں اور یوگا میں بھی۔‘

وہ بتاتی ہیں: ’مسلم جس طرح سے نماز ادا کرتے ہیں، ہماری ہر حالت ایک مرکب عمل ہے۔ جو مسلم یوگا سے نفرت کرتے ہیں انہیں یوگا کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ مسلم نماز کے وقت اپنے درمیان والی انگلی اور انگوٹھے کو ملاتے ہیں ، یہ یوگا کے عمل کی طرح ہے۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ وہ یہ نہیں مانتی ہیں کہ اسلام پر یوگا کا اثر پڑا ہے۔ فریدہ کے مطابق، ’یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ میں یوگا کرتی ہوں۔ اس طور پر انہوں نے مجھ پر مہربانی کی ہے۔‘

اسی بارے میں