کمپیوٹر ’کامن سینس‘ کی تلاش میں

Image caption نیل نے یہ پتہ چلا لیا ہے کہ موٹر گاڑیاں سڑکوں پر پائی جاتی ہیں اور یہ کہ بطخ قاز سے مشابہ ہوتی ہے

امریکہ میں سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ایک کمپیوٹر پروگرام انسانوں کی طرح ’کامن سینس‘ کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک کمپیوٹر پروگرام 24 گھنٹے تصویروں کے تجزیوں کے ذریعے کامن سینس یا عقل سلیم سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پروگرام کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا کمپیوٹر اسی طرح سیکھ سکتا ہے جس طرح انسان سیکھتے ہیں اور کیا تصاویر کے ذریعے اسے بصری دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ کی کارنیگی میلن یونیورسٹی میں ’دا نیور اینڈنگ امیج لرنر‘ (این ای آئی ایل یا نیل) یعنی تصاویر کے ذریعے سیکھنے کا لامتناہی سلسلہ نامی پروگرام چلایا جا رہا ہے جس کے لیے امریکی وزارت دفاع میں بحریہ کا تحقیقی محکمہ اور گوگل مشترکہ طور پر فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔

رواں سال جولائی کے مہینے سے ’نیل‘ پروگرام نے 30 لاکھ تصاویر دیکھیں اور نتیجے کے طور پر اس نے پانچ لاکھ تصاویر میں سے 1500 اشیاء کی شناخت کی اور ایک لاکھ تصاویر میں سے 1200 مناظر کو بھی پہچاننے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے ساتھ اس نے ڈھائی ہزار متعلقات کی بھی نشاندہی کی ہے۔

اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ نیل بغیر سکھائے ہوئے مختلف چیزوں کے درمیان تعلقات اور رشتوں کی نشاندہی کرنے کا اہل ہو جائے گا۔

کمپیوٹر کے پروگرامز اپنے وژن یا بصارت کے ذریعے پہلے سے ہی چیزوں کی نشاندہی کر لیتے ہیں اور انہیں ایک لیبل بھی دے دیتے ہیں جس طرح کے انسان اپنی آنکھوں کے ذریعے کرتے ہیں لیکن کمپیوٹر اس کے لیے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کا استعما ل کرتے ہیں۔

محققین کا خیال ہے کہ کمپیوٹر پروگرام نیل اعدادوشمار کا زیادہ وسیع پیمانے پر تجزیہ کرنے کا اہل ہوگا۔

کارنیگی یونیورسٹی کے روبوٹکس انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ابھینو گپتا نے کہا کہ ’مادے کے خواص کے بارے میں جاننے کے لیے تصاویر بہترین ذرائع ہیں۔ دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اس میں کامن سینس کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ اسے سیکھتے ہیں لیکن ہمارا خیال ہے کہ کمپیوٹر بھی ایسا کر سکتا ہے۔‘

اس کی مثال یہ ہے کہ نیل نے یہ پتہ چلا لیا ہے کہ موٹر گاڑیاں سڑکوں پر پائی جاتی ہیں اور یہ کہ بطخ قاز سے مشابہہ ہوتی ہے۔

ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں جیسے اگر ان سے ’گلابی کے بارے پوچھا جائے تو وہ اس کا رشتہ رنگ کے بجائے تارے سے جوڑتا ہے کیونکہ تصاویر کی تلاش میں اسے زیادہ تر ایسے ہی نتائج ملتے ہیں۔

Image caption یہ کمپیوٹروں کے دو جھرمٹ پر چلتا ہے اور اس میں دو سو پراسیسرز بروقت چلتے رہتے ہیں

اس ٹیم میں شامل پی ایچ ڈی سکالر ابھینو شریواستو کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غلطیوں کو روکنے کے لیے پروگرام کے سیکھنے کے عمل میں انسانوں کی ضرورت ہوگی۔

ان کے مطابق ’انسان عام طور پر یہ نہیں جانتے ہیں کہ کمپیوٹر کو کیا بتانا یا سکھانا ہے لیکن وہ اس بات کی نشاندہی کرنے میں بہتر ہیں کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے یا کیا غلط ہے۔‘

نیل پروگرام کا دوسرا مقصد بصری معلومات کا دنیا کا سب سے وسیع ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے جہاں چیزیں، مناظر، حرکات و سکنات، خصوصیات اور کسی تناظر میں رشتوں اور انسلاک کو ترتیب کے ساتھ رکھا جائے گا۔

مسٹر گپتا نے کہا کہ دس سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کے گذشتہ پانچ برسوں میں ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ’آپ جتنے بصری مواد کا استعمال کریں گے اسی قدر کمپیوٹر کی بصارت تیز ہوگی۔‘

اس پروگرام کے لیے کمپیوٹر کو بہت توانائی درکار ہوتی ہے کیونکہ یہ کمپیوٹروں کے دو جھرمٹوں پر چلتا ہے اور اس میں دو سو پراسیسرز ہر وقت چلتے رہتے ہیں۔ محققین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ نیل کو ہمیشہ اسی طرح چلنے دیں گے۔

اسی بارے میں