گھلنے والی درد کش ادویات میں شامل نمک صحت کیلیے خطرہ

Image caption پانی میں گھلنے والے دواؤں میں نمک کا جز سوڈیم پایا جاتا ہے

برطانیہ میں محققین نے خبردار کیا ہے کہ پانی میں گھلنے والی درد کش ادویات نمک کی آمیزش کے باعث صحت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔

’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘

دردکش ادویات کا زیادہ استعمال خطرناک

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے بعض دواؤں میں بالغوں کے لیے یومیہ تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ سوڈیم پایا جاتا ہے جس کے بعض اوقات خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔

یہ نتائج برطانیہ کے 12 لاکھ مریضوں کے طبی معائنے سے اخذ کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں لاکھوں لوگ یہ دوائیں استعمال کرتے ہیں۔

مطالعے سے پتا چلا کہ پانی میں فوری حل ہونے والی درد کش ادویات اور دل کے دوروں اور فالج میں تعلق پایا جاتا ہے۔

وہ تمام ادویات جن میں کم سے کم 23 ملی گرام سوڈیم ہوتا ہے جو اصل میں خوردنی نمک کا جز ہے، ان تمام پر یہ تحریر ہونا چاہییے کہ ان میں سوڈیم موجود ہے۔

برطانیہ میں سوڈیم کی مجوزہ یومیہ خوراک 104 ملی مول یعنی تقریباً ڈھائی گرام ہے۔

اور دوا کے ساتھ موجود کتابچے پر یہ معلومات بھی ہونی چاہییں کہ اس میں سوڈیم کی مقدار کتنی ہے اور کم سوڈیم لینے والے مریضوں کے لیے اس پر تنبیہہ ہونی چاہیے۔

بغیر نمک والی ادویات استعمال کرنے والی مریضوں کی نسبت اُن مریضوں میں دل کے عارضے اور فالج کے حملے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو یہی ادوایات جلد گھلنے والی اقسام کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہےکہ ان دواؤں کے باعث بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے امکانات سات گنا بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جیکب جارج کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ زیادہ نمک ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر فالج کا۔‘

تاہم برطانیہ کے ادارے ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ خیال رہے کہ یہ تحقیق ان لوگوں کے بارے میں ہے جو یہ دوائیں روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ’کبھی کبھار یہ دوا استعمال کرنے والوں کی صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔‘

اگر کوئی شخص یومیہ آٹھ گولیاں لیتا ہے تو وہ تجویز کردہ حد سے زیادہ سوڈیم استعمال کرتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

برطانیہ میں دوا سازی کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ لائسنس یافتہ ادوایات کے محفوظ ہونے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس نئی تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کا احتیاط سے جائزہ لیں گے۔‘

اسی بارے میں