بٹ کوئن کی قدر 1000 امریکی ڈالر سے زیادہ

Image caption بٹ کوئن ایک قسم کی ورچوئل کرنسی ہے جس کا استعمال بعض آن لائن سائٹس پر خرید و فروخت کے لیے کیا جاتا ہے

انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے لیے استعمال کی جانے والی ورچوئل کرنسی بٹ کوئن کی قدر پہلی بار ایک ہزار امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

ورچوئل کرنسی کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرنے والی اہم کمپنی ایم ٹی جی اوکس نے اس اضافے کی تصدیق کی۔

کمپنی کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں امریکی سینیٹ کمیٹی کی بحث کے بعد سے اس کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور جب کمیٹی نے ورچوئل کرنسی کو جائز مالی سروس قرار دیا تو لوگوں کا اعتماد اس وقت سے بڑھنے لگا ہے۔

بٹ کوئن کرنسی کو عام طور پر آن لائن غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سلک روڈ نامی ویب سائٹ جو غیر قانونی ادویات فروخت کرتی تھی اور جسے گذشتہ ماہ بند کر دیا گیا تھا، وہاں لوگ غیرقانونی ادویات کے لیے بٹ کوئن کرنسی کا استعمال کرتے تھے۔

بہت سے لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ اس آن لائن سہولت پر پابندی کے بعد اس کی قیمت میں گراوٹ آئے گی لیکن اس کے برعکس اس میں لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے کیونکہ ضابطہ کاروں نے مستقبل قریب میں اس پر پابندی لگانے کا عندیہ نہیں دیا۔

اس کے پرجوش حامیوں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر رقوم کی منتقلی کا یہ انتہائی کارگر وسیلہ ہے۔

بٹ کوئن کو فروغ دینے والوں میں سے ایک مائک ہرن کا کہنا ہے کہ ’بٹ کوئن کو صفر ڈالر سے ایک ہزار ڈالر فی بٹ کوئن تک پہنچتے دیکھنا انتہائي دلچسپ ہے۔‘

سلک روڈ ویب سائٹ کے بند کیے جانے کے بعد امریکی سینیٹ نے اس بابت بحث شروع کی تھی اور محکمۂ انصاف اور سیکوریٹیز اور ایکسچینج کمیشن کے مالی ضابطہ کاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس ورچوئل کرنسی کے بارے میں کمیٹی کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اس بارے میں ایف بی آئی بھی رجوع کیا گيا تھا۔

اپنے افتتاحی بیان میں کمیٹی کے صدر اور سینیٹر تھامس کارپر نے کہا: ’ورچوئل کرنسی بطور خاص بٹ کوئن نے بعض لوگوں کے تصورات پر قبضہ جما لیا ہے، یہ بعض لوگوں میں خوف پیدا کرنے کا باعث بنی ہے اور ہم جیسے بہت سارے لوگوں کو اس نے کنفیوز کر رکھا ہے۔‘

ایف بی آئي نے کمیٹی کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ وہ اس ورچوئل کرنسی کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ’قانونی مالی سروس ہے‘ لیکن بعض ’شرپسند عناصر اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘

Image caption اکتوبر میں دنیا کا پہلا بٹ کوائن اے ٹی ایم کینیڈا کے شہر وینکوور میں کھولا گيا

بٹ کوئن کا استعمال اب دوسری جائز چیزوں کے لیے بھی ہونے لگا ہے۔

اکتوبر میں دنیا کا پہلا بٹ کوئن اے ٹی ایم کینیڈا کے شہر وینکوور میں کھولا گيا جس کے ذریعے صارفین بٹ کوئن کو کیش اور کیش کو بٹ کوئن میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ایک بٹ کوئن ایک ہزار امریکی ڈالر کا ہے لیکن آپ اس کا ایک حصہ بھی کسی چیز کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیزا فار کوئنز ڈاٹ کام پر دو پیزا کے لیے آپ کو 0.0216 بٹ کوئن ادا کرنے ہوں گے۔

رواں سال بٹ کوئن کی قدر میں نشیب و فراز نظر آئے۔ جنوری میں اس کی قدر 20 امریکی ڈالر تھی۔ اپریل میں یہ چند گھنٹوں میں 260 امریکی ڈالر سے 130 امریکی ڈالر ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق چین میں بھی بٹ کوئن کو تیزی کے ساتھ اپنایا جا رہا ہے اور بی ٹی سی چائنا عالمی سطح پر اس میں سرگرم ہے۔

اسی بارے میں