’صدی کے دمدار ستارے‘ آئسن پر کڑا وقت

دنیا بھر کے ماہرین فلکیات آئسن نامی دم دار ستارے پر سورج سے قربت کے اثرات کے مشاہدے کے منتظر ہیں۔

یہ دمدار ستارہ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق شام چھ بج کر 35 منٹ پر سورج سے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔

’آئسن‘ کو ممکنہ طور پر ’صدی کا دم دار سیارہ‘ قرار دیا جا رہا ہے لیکن امکان ہے کہ سورج کی تپش اور کششِ ثقل اسے زمین کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر سکتی ہے۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس دم دار ستارے پر سورج کی قربت کے منفی اثرات پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔

آئسن اورٹ کلاؤڈ (Oort Cloud) سے آیا ہے جو ہمارے نظام شمسی کے آخری سرے پر واقع ہے اور جہاں پر بہت بڑی تعداد میں دم دار ستارے موجود ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آئسن دم دار ستارہ اس کلاؤڈ میں پچھلے ساڑھے چار ارب سالوں سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔

کئی دم دار ستارے ایک دہائی کے بعد کرۂ ارض سے گزرتے ہیں لیکن بہت کم دم دار ستارے سورج کے ہالے سے گزرتے ہیں اور آئسن تو سورج سے صرف 12 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا جو کہ ایک لحاظ سے سورج سے رگڑتے ہوئے گزرنے کے برابر ہے۔

برطانیہ کی جوڈریل بینک رصد گاہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ٹم او برائن کا کہنا ہے کہ ’یہ آگ میں برف کا گولہ پھینکنے کے مترادف ہے۔ اس کے لیے بچنا بہت ہی مشکل ہوگا۔‘

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’خوش قسمتی سے یہ بہت بڑا ہے اور تیزی سے سفر کر رہا ہے، اس لیے یہ سورج کی قربت میں زیادہ وقت نہیں گزارے گا، لیکن پھر بھی صورتحال بہت غیریقینی ہے۔‘

اگر یہ ستارہ سورج کے مدار سے صحیح سلامت نکل آتا ہے تو سائنس دانوں کو امید ہے کہ دس لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والا آئسن تین دسمبر کو زمین کے مشرقی افق پر نمودار ہو گا اور یہ ایسا نظارہ ہوگا جو اگلی ایک نسل تک دوبارہ نہیں دیکھا جا سکے گا۔

دسمبر کے پورے مہینے شمالی نصف کرے میں لاکھوں افراد اس دم دار ستارے کی لاکھوں کلومیٹر لمبی دم دیکھ سکیں گے۔

سائنس دانوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ آئسن کا حال وہی ہو سکتا ہے جو سنہ 2011 میں لّو جوائے (Lovejoy) نامی دم دار ستارے کا ہوا تھا جب وہ سورج کے قریب پہنچا تھا۔

سورج کی کشش ثقل نے دم دار ستارے کی ایک جانب کو اپنی طرف کھینچا جس کے باعث لّو جوائے پھیل گیا۔ جب یہ سورج کے مدار سے نکلا تو ٹوٹ گیا۔

آیا یہی حال آئسن کا ہو گا اس کا دارومدار اس کے مرکزے یا نیوکلیئس پر ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آئسن کا نیوکلیئس کئی کلومیٹر کا ہے اس لیے اس کے بچنے کی امید ہے۔

آئسن اگر اپنی لمبی دم کے ہمراہ شمالی نصف کرے میں نمودار ہوتا ہے تو اس سے سائنس دانوں کو بہت سے سوالات کے جوابات حاصل کرنے میں مدد ملے گی

سائنس دان آئسن کی برف کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں گے اور ان معلومات سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ساڑھے چار ارب سال قبل ہمارا شمسی نظام کیسے وجود میں آیا تھا۔

اس دم دار ستارے کو دنیا کا ہر ایک شخص انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھ سکے گا اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ سالوں میں آئسن کا تذکرہ ’صدی کے دم دار ستارے‘ کے طور پر کیا جائے گا۔

اسی بارے میں