پاکستان میں طبی سیاحت کا بڑھتا رجحان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اٹھائیس سالہ ڈاکٹر شمیر خان پہلی بار ملائیشیا سے پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے سوچا، کہ اپنا آبائی ملک دیکھنے کے ساتھ ساتھ سرجری کے ذریعے بال بھی لگوا لیں۔

ڈاکٹر شمیر کا خاندان دو نسلوں سے ملائشیا میں رہائش پذیر ہے۔ وہ خود ڈاکٹر ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ اس قسم کے آپریشن ملائیشیا میں تقریباً تین ہزار ڈالر زیادہ مہنگے ہیں۔

’پاکستان آنے کے لیے ٹکٹ کے اخراجات کے باوجود، یہاں ملائیشیا، سنگاپور اور شاید تھائی لینڈ کے مقابلے میں آپریشن کروانا زیادہ سستا ہے۔ اور دوسری وجہ ہے کہ نتائج بہت اچھے ہیں۔ میرے اور بھی دوستوں نے یہ کروایا ہے اور وہ بہت خوش ہیں۔‘

پاکستان میں کاسمیٹک سرجری اتنی مقبول ہو رہی ہے کہ کاسمیٹک سرجنز کی تنظیم پاکستان اyسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز کے محتاط اندازوں کے مطابق اس کی سالانہ مالیت بیس سے پچیس کروڑ روپے ہے۔

Image caption پاکستان آنے کے لیے ٹکٹ کے اخراجات کے باوجود، یہاں ملائشیا، سنگاپور اور شاید تھائی لینڈ کے مقابلے میں آپریشن کروانا زیادہ سستا ہے۔

اسلام آباد کے ایک مشہور سرجن ڈاکٹر ہمایوں مہمند کا کہنا ہے کہ بال لگوانے کے علاوہ لوگ ناک ٹھیک کرواتے ہیں اور آپریشن کے ذریعے چربی بھی نکلواتے ہیں۔ ان کے ہیر ٹرانسپلاٹ کروانے (بال لگوانے) والے مریضوں میں سے 80 فیصد بیرونِ ملک سے آتے ہیں۔

’وہی ہیر ٹرانسپلانٹ جو میں دبئی میں تیس ہزار ڈالر میں کرتا ہوں، یہاں مشکل سے پندرہ سو ڈالر کی لاگت آتی ہے۔ اس پندرہ سو ڈالر میں کرایہ، نرسوں اور دیگر عملے کی تنخواہیں شامل ہیں اور برطانیہ اور امریکہ کے مقابلے میں ڈاکٹروں کی صلاحتیں تو برابر ہیں۔‘

پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز کے صدر ڈاکٹر معظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ ان کے ایک چوتھائی مریض بیرونِ ملک سے آتے ہیں۔ غیر ملکی کم ہوتے ہیں، اور پاکستانی نژاد افراد زیادہ، جو چھٹیوں میں پاکستان آ کر سستے آپریشن کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

’میرے پاس جو باہر سے مریض آتے ہیں وہ خرچے کا موازنہ کر کے آتے ہیں، خاص طور پر جب وہ زرِمبادلہ میں ادائیگی کرتے ہیں۔‘

Image caption کیونکہ کاسمیٹک سرجری کا کاروبار مقبول ہے، اسی لیے عطائی ڈاکٹر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہمایوں مہمند

دنیا بھر میں میڈیکل ٹورئزم، یعنی طبی سیاحت زور پکڑ رہی ہے جس سے قیمتی زرِمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ بھارت، سنگاپور، متحدہ عرب امارت کی ریاست دبئی اور لاطینی امریکہ کا ملک کیوبا وہ جگہیں ہیں جہاں ایسی سیاحت کی چاندی ہے۔

پاکستان میں کاسمیٹک سرجنز کہتے ہیں کہ ایسی سیاحت کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ سکیورٹی کی صورتِ حال ہے جبکہ دوسری بڑی رکاوٹ عطائیوں کی تعداد میں اضافہ ہے جن کے خلاف قانونی کارروائی تو دور کی بات، ان کی نگرانی کا کوئی مؤثر طریقہ کار بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر ہمایوں مہمند کہتے ہیں کہ کیونکہ کاسمیٹک سرجری کا کاروبار مقبول ہے، اسی لیے عطائی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ’نجی شعبے کی نگرانی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے لوگ یہاں آنے سے ڈرتے ہیں۔ ایک بھی سرجن خراب کام کرتا ہے تو پاکستان بدنام ہو جاتا ہے۔‘

Image caption میں بہتر دِکھنا چاہتا ہوں، اس سے میری شخصیت میں فرق پڑے گا۔ بال لگوانے والے مریض

ڈاکٹر معظم اس بات اس اتفاق کر تے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاسمیٹک سرجنز کی تنظیم نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن پر دباؤ ڈال کر منظور کروایا ہے کہ لائپوسکشن اور ہیر ٹرانسپلانٹ کرنے والے سرجن عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں ہو سکتے۔ ’اس پر عملدرآمد کتنا ہو گا، یہ دیکھنے والا ہے۔‘

پاکستان میں کاسمیٹک سرجری کروانے والوں کو کیا خطرات ہیں، اس بارے میں پاکستانی نژاد ملائیشین ڈاکٹر شمیر خان کو فکر نہیں بلکہ انہیں تو امید ہے کہ ملائیشیا واپس جا کر ان کی کھوئی ہوئی خود اعتمادی لوٹے گی۔

’میں بہتر دِکھائی دینا چاہتا ہوں، اس سے میری شخصیت میں فرق پڑے گا اور میرے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ میرا پیشہ ایسا ہے کہ بال لگوانے سے فرق نہیں پڑے گا، لیکن ذاتی زندگی میں تو ضرور پڑے گا۔‘

اسی بارے میں