ڈرون کے ذریعے صارفین تک سامان کی ترسیل

Image caption اس سروس کو پرائم ایئر کہا جائے گا

آن لائن خرید و فروخت کی بڑی کمپنی ایمیزون کے چیف ایگزیکیٹیو کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی بغیر پائلٹ کے ڈرون کے ذریعے صارفین تک سامان پہنچانے کا تجربہ کر رہی ہے۔

ایمیزون کے چیف ایگزیکٹیو جیف بیزوس نے کہا کہ ’آکٹو کاپٹرز‘ نامی ڈرون صارفین کو آرڈر بک کرنے کے 30 منٹ کے اندر اندر سامان پہنچا سکیں گے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ڈرون کے ذریعے سامان پہنچانے کی سروس شروع کرنے میں پانچ سال لگیں گے۔

امریکہ کے وفاقی ہوا بازی کے انتظامی ادارے کو بغیر پائلٹ کے ڈرون کے سویلین استعمال کی منظوری ابھی دینی ہے۔

جیف بیزوس نے سی بی ایس ٹی وی کے پروگرام 60 منٹس میں کہا کہ ’مجھے اندازہ ہے کہ یہ بات سائنس فکشن لگتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم آدھے گھنٹے میں سامان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔اور ہم 2.3 کلو گرام تک وزنی سامان لے جا سکتے ہیں جس میں ہمارا 86 فیصد سامان کور ہو جاتا ہے۔‘

اس سروس کو پرائم ایئر کہا جائے گا اور اس کے ذریعے ایمیزون مارکیٹ میں اپنی کارکردگی بڑھانا چاہتی ہے۔

ایمیزون نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں ایک ڈرون کو ان کے گودام سے سامان اٹھا کر صارف تک پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم ایمیزون کو اس سروس شروع کرنے کے لیے امریکی ضابطہ کاروں سے اجازت لینے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔

امریکہ کے وفاقی ہوا بازی کے انتظامی ادارے نے پولیس اور سرکاری اداروں کے استعمال کے لیے ڈرون سروس کے استعمال کی منظوری دیتے ہوئے گذشتہ کئی سالوں میں 1400 پرمٹ جاری کیے ہیں۔

ایمیزون کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی ضابطے بنیں ہم ٹیکنالوجی کے نقطۂ نظر سے تجارتی سرگرمیاں شروع کر دیں گے۔‘

امریکہ کی وفاقی ہوا بازی کا انتظامی ادارہ ڈرون کے استعمال کے لیے ضابطوں پر کام کر رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ 2015 تک مکمل ہو جائے۔

ایمیزون کے چیف ایگزیکیٹیو نے کہا کہ ’آگے چل کر پرائم ایئر سروس اتنی ہی عام ہو جائے گی جتنے آج کل سڑکوں پر نظر آ نے والے ڈاک کے ٹرک ہیں۔‘

اسی بارے میں