’لیمن شارک جنم دینے گھر واپس جاتی ہیں‘

Image caption اگرچہ شارک کی یہ نسل عادتاً بہت زیادہ آوارہ یا خانہ بدوش ہوتی ہے مگر اس نسل کی مادہ انہی علاقوں میں جاکر بچے جننے کو ترجیح دیتی ہیں جہاں ان کا اپنا جنم ہوا تھا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحر اوقیانوس میں واقع جزائر بہامس میں کئی برسوں کی تحقیق کے بعد اس بات کا ثبوت حاصل کر لیا ہے کہ مادہ لیمن شارک بچے دینے کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں واپس جاتی ہیں۔

سائنسدانوں نے اس تحقیق پر سترہ برس صرف کیے ہیں اور اس دوران وہ لیمن شارک کے نام سے جانی جانے والی شارک کی ایک نسل کی نگرانی کرتے رہے جس کے بعد یہ شہادت حاصل کی گئی ہے۔

اگرچہ شارک کی یہ نسل عادتاً بہت زیادہ آوارہ یا خانہ بدوش ہوتی ہے مگر اس نسل کی مادہ شارک انہی علاقوں میں جا کر بچے جننے کو ترجیح دیتی ہیں جہاں ان کا اپنا جنم ہوا تھا۔

تحقیق کار کہتے ہیں کہ ان کی یہ دریافت اس دلیل کو تقویت دیتی ہے کہ مخصوص بحری علاقوں میں مچھلیوں کے شکار پر پابندی ہونی چاہیے۔

اپنی جائے پیدائش پر جا کر ماں بننے کا رجحان دوسری آبی حیات میں بھی دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر سالمن مچھلی میں مگر یہی عادت بحری کچھووں میں بھی پائی جاتی ہے۔

لیمن شارکس پر ہونے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے بہامس میں بیمینی جزیروں کا انتخاب کیا جو اس نسل کی سب سے بڑی نرسری ہیں۔

مگر چونکہ یہ شارکس دیر سے بڑی ہوتی ہیں، اس لیے سائنسدانوں کو یہ معلوم کرنے کے لیے لمبے عرصے تک اس تحقیق پر کام کرنا پڑا کہ مادہ لیمن شارکس بچے پیدا کرنے کے لیے خود اپنی جائے پیدائش کا رخ کرتی ہیں۔

1995 سے لے کر 2012 تک اس تحقیقاتی ٹیم نے جال لگائے اور جو بھی لیمن شارک پکڑی اس کی پیمائش کی، نشان لگایا اور اسکے جینیاتی نمونے حاصل کیے۔

اس انتھک اور صبر آزما عمل کے بعد انہوں نے پتہ چلایا کہ کہ کم سے کم چھ ایسی مادہ لیمن شارکس چودہ سے سترہ برس کی عمر میں بچے دینے کے لیے ان علاقوں میں گئیں جہاں وہ پیدا ہوئی تھیں۔

Image caption بہامس بحر الکاہل میں سات جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے جس کا سرکاری نام ’بہامس کی دولتِ مشترکہ‘ ہے اور ملکۂ برطانیہ اس کی سربراہِ مملکت ہیں

اگرچہ اس نتیجے کو ثابت کرنے کے لیے نمونوں کی تعداد محدود ہے مگر سائنسدان کہتے ہیں کہ شارکس کی جتنی تعداد پر یہ تحقیق کی گئی یہ چھ شارکس ان میں سے بچ جانے والی 24 سے 75 فیصد شارکس کی نمائندگی کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر کیون فیلڈ ہائم نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت زیادہ شارکس بڑے ہونے تک زندہ نہیں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 1995 سے 1998 تک لگ بھگ دو سو لیمن شارکس نے جنم لیا جن میں سے محض ایک درجن ہی بالغ ہوسکیں اس لیے حقیقیت میں ہمیں ایسی چھ شارکس کا ملنا بڑا اہم ہے۔

سائنسدان یہ تو نہیں جان سکے ہیں کہ لیمن شارکس کی اس عادت کی وجہ کیا ہے کہ وہ زچگی کے لیے اپنی جائے پیدائش کا رخ کرتی ہیں، مگر ان کا خیال ہے کہ دوسری نسل کی شارک میں بھی بڑی حد تک یہ عادت پائی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں