نگرانی کے پروگرام میں اصلاحات کا مطالبہ

Image caption امریکی نگرانی کے پروگرام کے انکشاف کے بعد دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل صارفین کے معلومات کے تحفظ کے حالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں

ٹیکنالوجی کی دنیا کی بیشتر بڑی کمپنیوں نے امریکہ کے نگرانی کے پروگرام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

آٹھ کمپنیوں نے ایک اتحاد بنایا ہے جن میں گوگل، ایپل، فیس بک، ٹوئٹر، اے او ایل، مائیکروسافٹ، لنکڈ اِن اور یاہو شامل ہیں۔ اس اتحاد کو ریفارم گورنمنٹ سرولینس گروپ یعنی ’حکومتی نگرانی میں اصلاحات کا گروپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

’انٹرنیٹ کی آزادی خطرے میں ہے‘

’روزانہ 15 ارب موبائل فونز کی نگرانی‘

اس گروپ نے امریکی صدر اور کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ نگرانی کا موجودہ پروگرام لوگوں کی ’آزادی کی نفی‘ کرتا ہے۔

یہ مطالبہ امریکی حکومت کے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں ہونے والے انکشافات کے بعد سامنے آیا ہے۔

گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ایک کھلے خط میں لکھا ہے: ’ہم یہ مانتے ہیں کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا تحفظ کرے۔ لیکن حال ہی میں کیے جانے والے انکشافات کے بعد اس بات کی اشد ضرورت ہے دنیا بھر میں حکومتوں کی نگرانی کے پروگرام میں اصلاحات کی جائیں۔‘

’ کئی مالک میں توازن کا حکومتی مفادات کی جانب جھکاؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس سے لوگوں کے انفرادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، وہ حقوق جو ہمارے آئین میں تفویض کیے گئے ہیں۔‘

’یہ ہماری آزادی کی نفی کرتا ہے جس کا ہم سب حق حاصل ہے۔ یہ تبدیلی کا وقت ہے۔‘

ان آٹھ کمپنیوں کی جانب سے یہ اقدام امریکی حکومت کے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

سنوڈن امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ہیں انہوں نے کچھ ایسی دستاویز میڈیا کے حوالے کر دیں جن میں وہ مختلف طریقہ کار بتائے گئے جن کی مدد سے ایجنسیاں معلومات اکٹھی کرتی ہیں۔

منکشف کی گئی معلومات کے مطابق ایجنسیاں ٹیلی فون ریکارڈ جمع کرتی ہیں اور اُن فائبر آپٹکس تاروں کی نگرانی کی جاتی ہے جو دنیا بھر میں رابطہ کاری کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

اس اتحاد کے ارکان کا کہنا ہے کہ انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ نگرانی کے پروگرام کو قابو کیا جانا ضروی ہے۔

سماجی رابطے کی سب سے بڑی سائٹ فیس بک کے مالک مارک زوکربرگ کا کہنا ہے ’حکومت کے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں آنے والے اطلاعات کے بعد بڑے پیمانے پر وضاحتوں کی ضرورت ہے اور ایسی نئی حدود متعین کرنا ہوں گی کہ حکومت کس طرح معلومات اکٹھی کرے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چیزوں کو بہتر کرنے کے لیے امریکی حکومت کو اس موقعے کو اصلاحات کے لیے استعمال کرنا چاہییے۔‘

اسی بارے میں