مغربی انٹارکٹیکا: برف کا مسلسل پگھلاؤ

Image caption دنیا بھر میں سمندر کی سطح میں اضافے کا 15 فیصد حصہ مغربی انٹارکٹیکا سے آ رہا ہے

یورپ کی جانب سے بھیجے خلائی جہاز کرایوسیٹ سے حاصل ہونے والے تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مغربی انٹارکٹیکا سے برف مسلسل پگھل پگھل کر سمندر میں شامل ہو ہی ہے۔

قطبی علاقوں کے لیے مخصوص اس مشن سے معلوم ہوا ہے کہ اس علاقے سے ہر سال 150 مکعب کلومیٹر برف پگھل پگھل کر سمندر میں شامل ہو رہی ہے۔

نئے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سمندر کی سطح میں اضافے کا 15 فیصد حصہ مغربی انٹارکٹیکا سے آ رہا ہے۔

کرایوسیٹ کو سنہ 2010 میں ایک مخصوص ریڈار کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا تھا جو برف کی سطح اور اس کی شکل کو ماپ سکتا ہے۔

سائنسدان سمجھتے ہیں کہ یہ خلائی جہاز یورپی خلائی ایجنسی کو پہلے بھیجے گئے تمام مشنوں کی نسبت زیادہ بہتر معلومات فراہم کرتا ہے۔

نئے مطالعے میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ برف کے پگھلنے میں وہی عناصر ذمہ دار ہیں جنھیں عمومی طور پر اس کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

پگھلنے والے علاقوں میں پائن آئی لینڈ، تھوائیٹس اور سمتھ گلیشیئر شامل ہیں۔

یہ بڑے گلیشیئر اور ان سے جڑی پانی کی گزرگاہیں مغربی انٹارکٹیکا کے اندرونی علاقوں تک جاتی ہیں اور اس کی وجہ سے وہاں کا بیشتر حصہ سمندر میں شامل ہو رہا ہے۔

اُن علاقوں میں برف کی سطح میں سالانہ آٹھ میٹر تک کمی ہو رہی ہے جہاں سے پانی کے چشمے برفیلی زمین کو اوپر اٹھا کر سمندر تک لے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے سامنے آنے والے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مغربی انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کے درجۂ حرارت میں گذشتہ اندازوں کی نسبت تقریباً دوگنی رفتار سے اضافے ہو رہا ہے جس کی وجہ سے برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔

ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انٹارکٹیکا میں برف کی تہیں سمندر کی وجہ سے گرم ہو جاتی ہیں لیکن اس تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کے اس میں ماحول کا بھی اثر ہے۔

اسی بارے میں