’مشتری کے چاند سے پانی کے بخارات کا اخراج ہو رہا ہے‘

Image caption ناسا کی اس تصویر میں یوروپا کے قطبِ جنوبی سے پانی کا بخارات کا اخراج دکھایا گیا ہے

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سیارہ مشتری کے چاند یوروپا سے پانی کے بخارات کا اخراج ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ کہا جاتا ہے کہ نظام شمسی میں دوسری جگہوں کے مقابلے پر مشتری کے اس چاند میں زندگی پائے جانے کے زیادہ امکانات ہیں کیوں کہ وہاں بڑی مقدار میں پانی موجود ہے۔

’سائنس‘ جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ہبل خلائی دوربین سے دیکھا گیا ہے کہ یوروپا کے جنوبی قطبی علاقے میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کی زیادہ مقدار ہے۔

اگر مزید تحقیق میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ پانی ہی کے ذرات ہیں تو اس بات کی امید بڑھ جاتی ہے کہ یوروپا کی سطح سے اس پر موجود زیرِ سطح پانی تک پہنچا جا سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یوروپا پر موجود زیرِ سطح پانی میں زندگی کے آثار ڈھونڈنے کے لیے خلائی مہمات بھیجی جا سکتی ہیں۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ڈاکٹر جیمز گرین نے بی بی سی کو بتایا: ’پانی کی موجودگی کے آثار سے سائنس دانوں کو امید ہے کہ یوروپا پر زندگی ہے۔ پانی کا اخراج بہت اہم ہے اگر یہ واقعتاً پانی ہی ہے۔‘

پچھلے سال نومبر اور دسمبر میں ہبل دوربین سے لی گئیں تصاویر میں سائنس دانوں نے یوروپا پر پانی کے بڑے فوارے دیکھے۔ یہی چیز 1999 میں کھینچی گئی تصاویر میں بھی موجود تھی۔

سائنس دانوں نے تصاویر میں دیکھا کہ یوروپا کے جنوبی حصے سے پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن میں بکھر کر باہر نکل رہا ہے۔

سائنس میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹیکسس کے ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لورینز روتھ کا کہنا ہے: ’پانی ذرات کے دو بڑے فوارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ دونوں فوارے 200 کلومیٹر بلند ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق یوروپا کی سطح سے ہر سیکنڈ سات ٹن پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔

ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہی کے ڈاکٹر کرٹ ردرفورڈ کا کہنا ہے ’یہ بہت بڑی مقدار ہے۔ یہ بخارات یوروپا کی سطح سے نکلتے ہیں اور سارے کے سارے واپس سطح پر آ گرتے ہیں۔ اس میں سے کچھ بھی خلا میں نہیں جاتا۔‘

رپورٹ کے مطابق یوروپا کی سطح سے یہ ذرات ایک وقت میں سات گھنٹے کے لیے خارج ہوتے ہیں۔

ان ذرات کے اخراج میں اس وقت تیزی آتی ہے جب یوروپا مشتری سے دور ہوتا ہے۔

اسی بارے میں