جیمز بانڈ کی شراب نوشی انھیں لے ڈوبی

Image caption جیمز بانڈ کی شراب نوشی کی مقدار برطانیہ میں مقرر کردہ حد سے چار گنا زیادہ ہے

اگر آپ نے جیمز بانڈ کی فلمیں دیکھی ہوں تو آپ نے اکثر 007 کو اعلیٰ کلبوں میں حسیناؤں کے ساتھ شراب پیتے ہوئے دیکھا ہو گا۔

لیکن اب ایک دلچسپ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ کے اعلیٰ ترین جاسوس کی شراب سے بے محابا رغبت نے نہ صرف انھیں نامرد بنا دیا ہے بلکہ وہ اس قدر بیمار ہیں کہ مرنے کے قریب ہیں۔

اس تحقیق میں ڈاکٹروں نے جیمز بانڈ کردار کے خالق ایئن فلیمنگ کے ناولوں کا بغور مطالعہ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ جیمز بانڈ روزانہ ڈیڑھ بوتلیں لنڈھا جاتا ہے۔

دل پھینک جیمز بانڈ کے پچاس سال

ڈاکٹروں کے مطابق اس قدر شراب نوشی کی وجہ سے یہ سپیشل ایجنٹ اس قدر قابلِ اعتبار نہیں رہا ہے کہ ایک متحرک جوہری بم کو ناکارہ بنا سکے۔

ڈربی اور ناٹنگھم میں ڈاکٹروں نے فارغ اوقات میں جیمز بانڈ سیریز کے 14 ناولوں کا مطالعہ کیا۔

انھوں نے اس میں جیمز بانڈ کی ناولوں میں گزاری گئی 88 روزہ زندگی میں یومیہ شراب نوشی کا جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ جیمز بانڈ کے جیل میں گزارے گئے 36 دن نکال کر اس نے 88 دنوں میں شراب کے 1150 یونٹس پی ڈالے ہیں۔

یہ 92 یونٹ فی ہفتہ بنتے ہیں، جو روزانہ ووڈکا مارٹینی کے پانچ یونٹوں کے مترادف ہے۔ یہ مقدار برطانیہ میں مردوں کے لیے شراب نوشی کی مقررہ کردہ حد سے چار گنا زیادہ ہے۔

برٹش میڈیکل جریدے کے فیسٹیول ایڈیشن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’اگرچہ ہم اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی دہشت گردوں اور بڑے جواریوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شراب نوشی کرنی چاہیے، ہم جیمز بانڈ کو مشورہ دیں گے کہ وہ شراب کی مقدار پر دوبارہ غور کریں۔‘

ناٹنگھم یونیورسٹی ہسپتال میں بچوں کے شعبے کے کنسلٹنٹ پیٹرک ڈیوس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ’آپ نہیں چاہیں گے کہ یہ شخص جوہری بم ناکارہ بنائے، یہ بہت گلیمرس شخص ہے اور تمام لڑکیوں کو حاصل کر لیتا ہے، لیکن اپنے طرز زندگی اور شراب نوشی کی لت کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں ماند پڑ گئی ہیں۔‘

پیٹرل ڈیوس کے مطابق جیمز بانڈ شراب نوشی کے مسائل کی وجہ سے ان کے جگر کو نقصان پہنچنے کا بہت زیادہ امکان ہے اور جلد موت واقع ہو سکتی ہے اور وہ نامرد ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اضافہ کیا کہ ان کو محفوظ جنسی تعلق قائم کرنا چاہیے۔

جیمز بانڈ کو شراب نوشی کے بعد تیز رفتار سے گاڑی چلانے کی عادت بھی ہے۔ ’کیسینو روئیل‘ میں 39 یونٹ شراب پینے کے بعد برق رفتارگاڑی چلاتے ہوئے حادثہ ہو گیا اور انھیں دو ہفتے ہسپتال میں گزارنے پڑے۔

اس کے علاوہ ’فرام رشیا وِد لو‘ میں انھوں نے ایک دن میں50 یونٹ شراب پی اور تمام ناولوں میں مجموعی طور پر صرف 13 دن شراب کے بغیر تھے۔

محققین کے مطابق مطالعے میں جیمز بانڈ کی روز مرہ کے کام میں مداخلت نہیں کی گئی اور اس کا مقصد صرف شراب کے بارے میں اہم پیغام دینا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے سالانہ 25 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں