چینی خلائی گاڑی کا چاند پر سفر شروع

Image caption روبوٹک خلائی گاڑی کا نام ’یوتو‘ رکھا گیا ہے جو کہ چینی علاقائی داستانوں میں چاند پر رہنے والے ایک خرگوش کا نام ہے

چین کی روبوٹک خلائی گاڑی ’یو تو‘ چاند پر کامیابی سے اترنے کے بعد لینڈنگ ماڈیول سے نکل چاند کی سطح پر چل پڑی ہے۔

روبوٹک گاڑی لینڈنگ ماڈیول سے ایک ریمپ کے راستے سائی نس اریڈیم نامی آتش فشائی میدان میں میں اتر گئی۔

اطلاعات کے مطابق لینڈر اور روبوٹک گاڑی اتوار کو کسی وقت ایک دوسرے کی تصاویر بنائیں گے۔

یوتو سنیچر کو لینڈنگ ماڈیول تھرسٹر کے ذریعے چاند پر اترنے میں کامیاب ہوئی تھی جو کہ چین کے خلائی پروگرام کے لیے ایک انتہائی اہم قدم ہے۔

چینی سائنسدانوں کے مطابق اس مشن کا مقصد نئی ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنا، نیا سائنسی ڈیٹا حاصل کرنا اور علمی مہارت حاصل کرنا ہے۔ یہ مشن ایسی معدنیات کو بھی تلاش کرے گی جسی بعد میں کسی وقت نکالا جا سکے۔

روبوٹک خلائی گاڑی کا نام ’یوتو‘ رکھا گیا ہے جو کہ چینی علاقائی داستانوں میں چاند پر رہنے والے ایک خرگوش کا نام ہے۔

جس مقام پر یہ خلائی گاڑی اتری ہے وہ ایک ہموار میدان ہے جس کا نام ’بے آف رینبوز‘ ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق اس خلائی گاڑی نے بیجنگ کے وقت کے مطابق رات کے نو بجے اترنا شروع کیا اور گیارہ منٹ بعد اترنے میں کامیاب ہوا۔

یکم دسمبر کو لانگ مارچ تھری بی راکٹ کے ذریعے ’یوتو‘ اور لینڈنگ ماڈیول کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ مناظر چین کے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لینڈنگ اس مشن کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔

چاند کی سطح پر بھیجا جانے والا یہ تیسرا مشن ہے جس نے جائزے اور تحقیق کے لیے خلائی گاڑی چاند پر اتاری ہو۔ تاہم چینی خلائی گاڑی سب سے جدید ترین آلات سے لیس ہے جن میں زیرِ زمین اجزا کی معلومات جمع کرنے کے لیے ریڈار بھی ہے۔

خلائی گاڑی کو تیاری کرنے والے ادارے شنگھائی ایروسپیس سسٹمز انجینئرنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق خلائی گاڑی کا وزن 120 کلوگرام ہے اور یہ 30 درجے کے زاویے کی چٹانیں چڑھ سکتی ہے اور 200 میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دور بھی سکتی ہے۔

امریکی اپالو خلا باز ایگوین سرنن اور الڈرین نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ چینی خلائی گاڑی کا حجم ضرورت سے کافی بڑا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو چاند پر انسان کو اتارنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Image caption لینڈنگ کی اطلاع ملنے کے بعد کنٹرول میں موجود تمام عملے نے تالیاں بجائیں

حال ہی میں ایک امریکی سائنسدان نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر امریکی جریدے ایرو سپیس امریکہ کو بتایا کہ ’اگرچہ خلائی گاڑی پر سطح کے نیچے دیکھنے کی صلاحیت کا ریڈار نصب ہے لیکن ان میں سے کسی بھی سائنسی آلے سے توقع نہیں ہے کہ وہ کوئی نئی چیز دریافت کر سکے۔‘

گذشتہ چند سالوں میں چین نے اپنے خلائی پروگرام میں کافی ترقی کی ہے۔ اس سال جون میں تین چینی خلابازوں نے پندرہ روز زمین کے گرد مدار میں گزارے اور اپنے خلائی جہاز کو ایک تجرباتی خلائی لیبارٹری سے منسلک کر دیا۔

سنہ 2007 میں چین نے بغیر پائلٹ کے ایک خلائی جہاز کو چاند کے مدار میں بھیجا۔ یہ خلائی جہاز 16 ماہ تک چاند کے گرد گھومتا رہا اور پھر اسے چاند کی سطح پر گرا دیا گیا۔

سنہ 2003 میں چین نے پہلی بار ایک خلاباز کو خلا میں بھیجا اور اس طرح امریکہ اور روس کے بعد وہ تیسرا ملک بن گیا جس نے بغیر کسی اور ملک کی شراکت کے انسانوں کو کامیابی کے ساتھ خلائی سفر پر بھیجا۔

چین میں خلائی پروگرام فوج کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور ملک میں قومی فخر کی ایک وجہ ہے۔

اسی بارے میں