’گوگل ری یونینز جھجریا‘

Image caption ری یونئنز ویڈیوز کا مقصد انرنیٹ اور سرچ انجن کی روزمرہ زندگی میں بڑھتی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا

گوگل کے لیے بنایا گیا ایک اشتہار جو پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے موضوع پر بنا ہے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ یوٹیوب (جو پاکستان میں بند ہے) پر بہت زیادہ مقبول ہے۔

یوٹیوب پر اس ویڈیو کو اب تک ایک کروڑ سے زیادہ یعنی 10,600,423 بار دیکھا جا چکا ہے اور یہ تعداد اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب تک رسائی پر حکومتی پابندی کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے نہیں دیکھ سکے ہیں۔

یوٹیوب کے علاوہ فیس بک، ویمیو اور دوسری ویب سائٹس پر اسے دیکھنے والوں کی تعداد علیحدہ ہے۔

’ری یونینز‘ یا دوبارہ ملاپ نامی یہ ویڈیو دو بچپن کے دوستوں کے بارے میں ہے جو پاکستان اور بھارت کی 1947 میں تقسیم کے بعد بچھڑ جاتے ہیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو کئی دہائیوں سے نہیں دیکھا۔

ان دونوں میں سے ایک اپنی پوتی کو اپنے اُس دوست کے بارے میں بتاتے ہیں جو مسلمان تھا اور اسی وجہ سے پاکستان میں رہ گیا اور یوں ان سے بچھڑ گیا تھا اور وہ اسے بھول نہیں پائے اور خاص طور پر جب وہ دونوں لاہور میں ایک مٹھائی کی دکان سے ’جھجریا‘ چُراتے تھے۔

یہ سن کی ان کی پوتی گوگل اور انٹرنیٹ کے ذریعے ان کے لاہور میں موجود دوست کو ڈھونڈ نکالتی ہے۔

Image caption ری یونئنز ویڈیو

دوسری جانب پاکستانی دوست کا پوتا انٹرنیٹ اور گوگل کے ذریعے اپنے دادا کے بھارت جانے کا انتظام کرتا ہے اور یوں برسوں کے بچھڑے دو دوست تقسیم ہند کے بعد پہلی بار ملتے ہیں۔

اس ویڈیو کی کہانی بہت سادہ اور سہل ہے جس سے دونوں ممالک کے ہزاروں باشندے اپنا تعلق جوڑ سکتے ہیں۔

اس ویڈیو کے ساتھ ہی گوگل نے تین اور ویڈیوز بھی بنائی ہیں جنھیں آپ یو ٹیوب پر اس لنک پر جب کہ ویمیو پر اس لنک پر کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں۔

گوگل کے پاکستان میں کنٹری کنسلٹنٹ بدر خوشنود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ویڈیو کا خیال کیسے پروان چڑھا۔

بدر نے بتایا کہ ’بہت سے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور گوگل پہلے ہی ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے مگر انھیں یہ نہیں معلوم کہ گوگل پر بہت ساری جادوئی چیزیں بھی ہوتی ہیں۔‘

بدر خوشنود کا کہنا ہے کہ گوگل کی مارکیٹنگ ٹیم نے سوچا کہ کیسے اس سب کو لوگوں کی زندگی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے اور کیسے یہ سب ان کی زندگی میں بھی کارآمد ہے۔

یہ خیال گوگل انڈیا نے سوچا اور پھر بدر کے مطابق اس میں گوگل پاکستان شامل ہو گیا اور ہم نے ری یونینز کے خیال پر کام کرنا شروع کیا جس کا مرکزی نکتہ تھا ’کنیکٹیویٹی ود آؤٹ بارڈرز‘ یعنی سرحدوں سے ماورا رابطے جیسا ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ہیں۔

اس اشتہار کے بارے میں بدر خوشنود نے کہا ’جب میں نے پہلی بار یہ ویڈیو دیکھی تو آپ سوچ نہیں سکتے کہ یہ کتنی جذباتی ویڈیو ہے اور اس میں ایک جذباتی تعلق ہے اور ہم سب کے گھروں میں کوئی نہ کوئی ایسی کہانی ہے۔ اور مجھے اسی وقت اندازہ ہوا کہ یہ بہت زیادہ مقبول ہو گی۔‘

پاکستانی اخبار جنگ اور بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مشترکہ منصوبے امن کی آشا کی مدیر بینا سرور نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سے لوگوں نے اس ویڈیو کے بعد کوششیں شروع کی ہیں اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کی جو وہ پہلے بھی کر رہے تھے مگر اس انٹرنیٹ کے دور میں اس ویڈیو نے اس سارے عمل کو ایک طرح سے سمیٹ کر نچوڑ کر سامنے رکھ دیا ہے۔‘

بدر خوشنود نے بتایا کہ اس ویڈیو میں دکھائی جانے والی مٹھائی کی دکان فضل سویٹس کے ساتھ تعاون کیا اور ان کی ویب سائٹ بنانے میں مدد کی جس سے اس کہانی کی ڈرامائی تشکیل میں مدد تو ملی مگر فضل سویٹس بھی جدت کے اس دور میں آن لائن آگئی۔

اس ویڈیو میں دکھائی جانے والی مٹھائی کی دکان فضل سویٹس کے مالک مظہر اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا اس کہانی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں مگر ان کے آبا و اجداد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تقسیم ہند سے پہلے ہی لاہور ہجرت کر کے آئے تھے۔

مظہر اقبال نے بتایا کہ ’1930 میں میرے دادا نے اندورن موچی گیٹ میں یہ ادارہ قائم کیا اور حال ہی میں گوگل نے ہم سے رابطہ کیا اور اس ویڈیو کے بعد ہمیں برطانیہ، کینیڈا، بھارت اور نجانے کہاں کہاں سے ای میلز مل رہیں اور فون کالیں موصول ہو رہی ہیں۔‘

جب مظہر اقبال صاحب سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کس بارے میں لوگ پوچھتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’سب سے زیادہ ہمیں لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ جھجریا کیا ہے؟ یہ کون سی مٹھائی ہے اور اس کی ترکیب بتائی جائے۔‘

Image caption بظاہر فضل سویٹس کا اس ویڈیو کے کرداروں سے کوئی تعلق نہیں مگر اسے اس کے نتیجے میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی

جب پوچھا کہ جھجریا کیا ہوتی ہے تو انھوں نے بتایا کہ ’آج کل اس کی نئی شکل بالو شاہی ہے مگر ان دنوں یہ بہت چھوٹا سا ہوتا تھا اور بالو شاہی پر چینی تھوڑی سخت ہوتی ہے اس میں جیسے ہی اس کو اس کو منہ میں رکھیں تو اس کا شیرہ منہ میں گھل جاتا ہے جیسے چم چم کا شیرہ منہ میں رکھتے ہی گھل جاتا ہے۔‘

اس ویڈیو کے پاکستان اور بھارت کے عوام کے پر اثرات کے بارے میں بینا سرور کہتی ہیں کہ ’پاکستان اور ہندوستان کے عوام جب بھی آپس میں کہیں بھی ملتے ہیں تو ان میں تو دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ جو پالیسیاں ہیں یہ لوگوں کے تاثرات سے بہت پیچھے ہیں۔‘

مظہر اقبال کہتے ہیں کہ انھیں اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اس کی فرنچائز کیسے کھول سکتے ہیں اور انھیں خوشی ہوتی ہے کہ ایک چیز یعنی جھجریا جو ختم ہو چکی تھی اس میں اب دوبارہ دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔

تو امید کی جاسکتی ہے کہ لاہور کے اندورن موچی گیٹ کے علاقے میں اگر آپ مستقبل میں جائیں تو آپ کو ’گوگل ری یونینز جھجریا‘ چکھنے کا موقع ملے گا اور جو لاہور نہیں جا سکتے ہو فضل سویٹس کی ویب سائٹ سے اس کی ترکیب جلد حاصل کر پائیں گے۔