ڈاکٹر کی جگہ موبائل ایپس اور ڈیوائسز

Image caption کیا اب ڈاکٹر ادویات کا نسخہ لکھنے کی بجائے مریضوں کو موبائل ایپس تجویز کیا کریں گے؟

اگر آپ ڈاکٹر کے کمرے کے باہر انتظار کر رہے ہیں اور آپ کی دسترس میں صرف ایک جریدہ یا ریڈرز ڈائجسٹ ہے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام 21ویں صدی کے شایانِ شان ہے؟

برطانیہ کی قومی ہیلتھ سروس کے اوپر بہت زیادہ دباؤ ہے کہ وہ اپنے نظام کی تجدید کرے۔

ڈینئل کرافٹ سلیکون ویلی میں سنگولیٹری یونیورسٹی کے میڈیکل سکول کے سربراہ ہیں۔ ان کا ادارہ مختلف صنعتوں میں حالات کی بہتری کے لیے تنوع اور جدت کے لیے کام کرتا ہے۔

جب میں نے ان کا انٹرویو کیا تو وہ سٹار ٹریک فلم کے ٹرائی کوڈر سے ملتا جلتا ایک سکینر لیے ہوئے تھے۔ یہ ٹرائی کوڈر آپ کو سکین کر سکتا ہے اور معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ اگر میں اسے اپنے ماتھے پر رکھوں تو یہ میرے دل کی دھڑکن نوٹ کر لے گا، میری آکسیجن، میرا درجۂ حرارت، خون کا دباؤ اور ان سب معلومات کو میرے سمارٹ فون پر بھجوا دے گا۔

ڈاکٹر کرافٹ کہتے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے آلات سمارٹ فون کے ساتھ منسلک ہوں گے، اور یہ فون آگے سپر کمپیوٹروں کے ساتھ جڑے ہوں گے، اور اس کے تحت لوگ اپنے مرض کی فوری تشخیص کروا سکیں گے۔

Image caption اس وقت بہت ساری ایپس دستیاب ہیں جو لوگوں کو ان کے دل کی دھڑکن، فشارِ خون اور بہت سی دوسری معلومات دیتی ہیں

اس طرح کی کوئی چیز فی الحال دستیاب نہیں ہے۔ امریکہ میں ایسے کسی آلے کی ایجاد پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے جسے طبی مقاصد کے لیے گھر پر استعمال کیا جا سکے۔ اس کے لیے 300 ٹیمیں مقابلے میں ہیں۔

لیکن اس وقت کچھ ایسے آلات ضرور موجود ہیں جو لوگوں کی ان کی صحت کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں۔ ان میں نائیکی کا ’فیول بینڈ‘ اور ’جا بونز اپ‘شامل ہیں۔ یہ ایسے آلات ہیں جنھیں پہنا جا سکتا ہے۔

بازو پر پہنے جانے والے آلات

ان دنوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہر بیماری اور ہر لت کے لیے ایک ایپ موجود ہے۔ ذیابیطس کے مریض اپنے خون میں شوگر کی سطح کو اپنے سمارٹ فون کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کی خوراک پر نظر رکھنے کے لیے ایپس ہیں، حمل اور خواتین کے لیے الگ ایپس بھی ہیں۔

اب تو ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ کی قمیص کے کف ایسے بنیں جو سمارٹ فون کے ذریعے آپ کے فشارِ خون پر نظر رکھیں۔

ڈاکٹر کرافٹ بیک وقت چار کڑے پہنے ہوئے ہیں جو ان کے دل کی دھڑکن، ان کے سونے کے طریقوں اور وہ اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ کتنے قدم روزانہ چلتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈاکٹر مریضوں کو ادویات کے بجائے اس طرح کے آلات تجویز کریں گے۔

Image caption کہا جا رہا ہے کہ اب ڈاکٹر اپنے مریضوں پر نظر بھی رکھ سکیں گے کہ وہ ان کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں؟

گذشتہ سال برطانوی شعبۂ صحت نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کو ایپس تجویز کریں جس کے نتیجے میں وہ اپنی صحت پر نظر رکھ سکیں۔

تاہم بہت سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ بغیر نگرانی کے یہ سب مریضوں کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔

ستمبر میں امریکی خوراک اور ادویات کی انتظامیہ نے کہا کہ وہ بہت کم تعداد میں ایسی ایپس کی نگرانی کریں گے جو طبی آلات کے طور پر کام کرتے ہیں۔

طبی آلات بنانے والی کمپنی ایکسٹنر اور فلپس نے ایک آپریشن کے دوران سرجن کو ایک اور آلہ گوگل گلاس پہنایا جس کی مدد سے وہ مریض سے نظریں ہٹائے بغیر تمام ضروری علامات پر نظر رکھ سکے۔

ایسے آلات ڈاکٹروں کو وارڈ کا دورہ کرنے کے دوران ہی مریضوں کے تمام اعداد و شمار بتا سکتے ہیں۔

اسی طرح پہنے جانے والے آلات کی مدد سے ڈاکٹر اپنے مریض کی صحت پر نظر رکھ سکے گا اور اسے معلوم ہو گا کہ مریض اس کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر کرافٹ کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ اچھے طریقے سے عمل کرتے ہیں تو آپ کو فوائد حاصل ہوں گے مثلاً محکمۂ صحت آپ کو بطورِ انعام کنسرٹ کا ٹکٹ دے دے گا۔‘

’پروہیلتھ‘ جیسی انشورنس کمپنیاں پہلے ہی ایسے مریضوں کا صحت کا پریمیئم کم کر دیتی ہیں جو صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔

گذشتہ سال ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سن مائکرو سسٹم کے شریک بانی ونود کھوسلہ نے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں 80 فیصد ڈاکٹروں کی جگہ ٹیکنالوجی لے سکے گی۔

انھوں نے موجودہ صحت کے نظام کو ’جادوگری‘ قرار دیا اور کہا کہ جدت کے نتیجے میں طب پڑھنا بہت سہل، سستا اور معین ہو جائے گا۔

ڈاکٹر کرافٹ کا کہنا ہے کہ ’ایسی تبدیلی پہلے ہی آ چکی ہے جیسا کہ بے ہوش کربے والے روبوٹ آن لائن آ چکے ہیں اور اسی طرح آپ کی جلد کی تصویریں بنانے والی ایپلیکیشنز آ گئی ہیں جو آپ کے ماہرِ جلد سے بہتر کام کرتی ہیں۔‘

آئی بی ایم کے ’واٹسن‘ نامی سپر کمپیوٹر نے پہلے ہی کینسر کی تشخیص کے معاملے میں ڈاکٹروں کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔

کمپنی نے فروری میں واٹسن کو مختلف ہسپتالوں اور کلینکس کے لیے کرائے پر دینے کا اعلان کیا ہے جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا دیکھ سکیں گے۔

تاہم جو بھی حالات ہوں یہ احساس ہو رہا ہے کہ طب کے شعبے کو تبدیلی کی ضرورت ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے یہ تبدیلی آ رہی ہے۔

اسی بارے میں