قطب جنوبی میں ہیروں کے ذخائر کی موجودگی کے شواہد

Image caption قطب جنوبی میں تجارتی مقصد کے لیے کھدائی ممنوع ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کو اس بات کے ٹھوس شواہد ملے ہیں قطبِ جنوبی کی برف سے ڈھکی پہاڑیوں میں ہیروں کے ذخائر موجود ہیں۔

تحقیق کاروں نے ان پہاڑیوں میں ایک خاص قسم کے پتھر کی نشاندہی کی ہے جس میں قیمتی پتھر موجود ہوتے ہیں۔ تاہم اس علاقے میں تجارتی مقصد کے لیے کھدائی ممنوع ہے۔

سائنسدانوں نے یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشن جرنل میں شائع کی ہے۔

واضح رہے کہ ہیرے زمین کی سطح سے ڈیڑھ سو کلومیٹر نیچے خالص کاربن پر شدید حرارت اور دباؤ پڑنے کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آتش فشانی سرگرمیوں سے یہ ہیرے سطح پر آ جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ ہیرے نیلے رنگ کے ایک قسم کے پتھر میں محفوظ ہوتے ہیں جسے ’کمبر لائٹ‘ کہا جاتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں کمبر لائٹ میں ہیروں کی موجودگی پائی جاتی ہے جیسے کہ افریقہ، سائبیریا اور آسٹریلیا۔

تاہم اب سائنسدانوں کو پہلی بار قطب جنوبی میں کمبر لائٹ پتھروں کے شواہد ملے ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم کو شمالی پرنس چارلز ماؤنٹین کی ڈھلوانوں پر کمبرلائٹ پتھروں کے تین نمونے ملے۔

برطانوی سائنس دان ڈاکٹر ٹیل رائلی کا کہنا ہے ’یہ بہت اہم بات ہے کہ سائنسدانوں کو کمبرلائٹ کے گروپ ون کے پتھر ملے ہیں جن میں ہیرے پائے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم اس گروپ کے دس فیصد پتھروں میں ہیرے ہوتے ہیں اس ہم فی الحال قطب جنوبی میں ہیروں کی کان کنی سے بہت دور ہیں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر قطب جنوبی میں ہیرے کے ذخائر مل بھی جاتے ہیں تب بھی اس علاقے میں کان کنی کی راہ میں بہت ساری قانونی رکاوٹیں حائل ہیں۔

سنہ 1991 کے ماحولیاتی معاہدے کے تحت انٹارکٹیکا میں صرف سائنسی مقاصد ہی سے معدنیاتی وسائل کے لیے کھدائی کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس معاہدے پر 2041 میں نظرثانی کی جائے گی۔

قطب جنوبی ریسرچ کمیٹی کے ڈاکٹر کیون ہیوگز کا کہنا ہے: ’ہمیں ابھی نہیں معلوم کہ اس معاہدے پر سنہ 2041 میں مختلف ممالک کا موقف کیا ہو گا۔ اور اس وقت تک کھدائی کے لیے تکنیکی جدت کس حد تک ہو گی تاکہ کم خرچ میں کھدائی کی جاسکے۔‘

انھوں نے کہا: ’تاہم وہ ممالک جنھوں نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ان پر کھدائی کی ممانعت لاگو نہیں ہوتی۔‘

اسی بارے میں