روزانہ ایک سیب کی کہاوت کتنی درست؟

Image caption وکٹوریائی عہد میں لوگوں کو انتہائی واضح اور سہل انداز میں صحت عامہ کا شاندار مشورہ دیا گیا تھا اور وہ اپنے مشورے میں بہت درست تھے کہ ڈاکٹروں کو دور رکھنے کے لیے روزانہ ایک سیب کھائیں

ایک تازہ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں اگر 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد روزانہ ایک سیب کھائیں تو ہر سال امراض قلب سے مرنے والے 8500 افراد کو بچایا جا سکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سیب دل کی صحت کو اسی طرح تقویت پہنچاتا ہے جس طرح سٹیٹن گروپ سے تعلق رکھنے والی کولیسٹرول کم کرنے والی عام ادویات (ان ادویات میں لپی ٹور اور کرسٹور شامل ہیں)۔ صرف فرق اتنا ہے کہ دواؤں کے مضر اثرات ہوتے ہیں، پھلوں کے نہیں۔

یہ تحقیق موقر برطانوی جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

انھوں نے اپنی تحقیق کی بنیاد براہ راست سائنسی مطالعے کے بجائے مفروضہ ماڈل پر رکھی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہر قسم کا پھل مفید ہے لیکن لوگوں کو اس کا پابند بنانا مشکل کام ہے۔

ملک کی آبادی کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ دوتہائی سے زیادہ بالغ افراد پھل اور سبزی کی مجوزہ مقدار نہیں لیتے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک شخص کی روزانہ کی خوارک میں پانچ حصہ پھل اور سبزیوں پر مبنی ہونا چاہیے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں صحت میں اضافے کے لیے کام کرنے والے شعبے برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر ایڈم برگز اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ دس میں سے نو افراد روزانہ مجوزہ مقدار میں سے ایک حصہ ہی پھل اور سبزی کھانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس میں اضافے کے ساتھ ہم مزید فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

ان کے تخمینوں کے مطابق اگر تمام عمر کے بالغ پھل اور سبزی کے ایک حصے کا اپنی روزانہ کی خوراک میں اضافہ کرلیں تو ہر سال دل کے امراض سے مرنے والوں کی تعداد میں تقریباً 11 ہزار کی کمی ہو جائے گی۔

محققوں کا کہنا ہے کہ ’وکٹورین کہاوت ’روزانہ ایک سیب سے، رہے ڈاکٹر دور‘ 50 سال کی عمر والے ان افراد پر زیادہ صادق آتی ہے جن کو دل کے امراض کا زیادہ خطرہ ہے۔‘

انھوں نے دل کے امراض سے اموات کی سب سے عام وجہ کا تجزیہ کرتے ہوئے کولیسٹرول کو کم کرنے کے لیے 50 سال سے زیادہ عمر والے بعض افراد کو روزانہ سٹیٹن تجویز کی اور بعض کو روزانہ ایک سیب کھانے کی صلاح دی۔

انھوں نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ ہر دس میں سے سات لوگوں نے ان کی تجویز پر عمل کیا جس کے نتیجے میں سٹیٹن سے 9400 افراد کی جان بچی، وہیں روزانہ ایک سیب کھانے سے 8500 افراد مرنے سے بچ گئے۔

Image caption زیادہ تر بالغ افراد پھل اور سبزی کی مجوزہ مقدار نہیں لیتے

انھوں نے اپنے اس تجزیے کے لیے لاکھوں افراد کے میڈیکل ریکارڈز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔

ڈاکٹر برگز نے کہا: ’وکٹوریائی عہد میں لوگوں کو انتہائی واضح اور سہل انداز میں صحتِ عامہ کا شاندار مشورہ دیا گیا تھا اور وہ اپنے مشورے میں بہت درست تھے کہ ڈاکٹروں کو دور رکھنے کے لیے روزانہ ایک سیب کھائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہماری خوراک میں ذرا سی تبدیلی کتنی موثر ہوسکتی ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا: ’جن لوگوں کو ابھی سٹیٹن دوا دی جا رہی ہے وہ اسے سیب سے تبدیل نہیں کر سکتے، تاہم ہم تمام افراد ذرا زیادہ پھل کھانے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں