ایک ارب ستاروں کی نشاندہی کی خلائی مہم

Image caption گائیا ستاروں کے بارے میں انتہائی یقینی معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

یورپی خلائی ادارہ خلا میں ایک ایسا مصنوعی سیارہ بھیج رہا ہے جو ایک ارب سے زیادہ ستاروں کے صحیح مقام اور زمین سے ان کے فاصلے کا تعین کرے گا۔

گائیا نامی اس سات کروڑ چالیس لاکھ یورو مالیت کی خلائی رصد گاہ کی مدد سے پہلی بار اس امر کی حقیقی تصویر کشی ہو سکے گی کہ ہماری کہکشاں ’ملکی وے‘ کیسے بنی تھی۔

یہ خلائی رصد گاہ اتنی حساس ہے کہ اس کی مدد سے ایسے ہزاروں نئے سیاروں اور شہابیوں کو دیکھا جا سکے گا جن کے بارے میں اس سے قبل کوئی نہیں جانتا۔

یورپی خلائی ایجنسی کا یہ سیارچہ فرنس گیانا کے سنامیری خلائی مرکز سے سویوز راکٹ کی مدد سے خلا میں بھیجا جا رہا ہے۔

روانگی کے 40 منٹ بعد گائیا راکٹ سے علیحدہ ہو جائے گا اور ایک ماہ کے سفر کے بعد زمین سے ڈیڑھ لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے طے شدہ مقام پر پہنچے گا۔

اس سیارچے پر 20 برس سے زیادہ عرصے سے کام جاری تھا اور یہ آسٹرومیٹری یا خلائی اجسام کے مقام اور ان کی حرکات پر نظر رکھنے کا کام کرے گا۔

اس کام کے لیے خلائی رصدگاہ پر دو دوربینیں نصب ہیں جو ایک ارب پکسل والے کیمرے پر روشنی منعکس کرنے کا کام کریں گی۔

Image caption اس مصنوعی سیارچے کا خیال پہلی بار 1991 میں پیش کیا گیا تھا

گائیا انتہائی مستحکم اور حساس آلات کی مدد سے ستاروں کے بارے میں انتہائی یقینی معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر پروفیسر الویرو گمینز کا کہنا ہے کہ پانچ برس تک اپنے اہداف کے بارہا جائزے کے بعد وہ چمکدار ترین ستاروں کے مقام کی اتنی صحیح نشاندہی کر سکے گا کہ اس میں غلطی کا احتمال نہ ہونے کے برابر ہوگا۔

گائیا جن ستاروں پر نظر رکھے گا، ان کا خاکہ بھی تیار کرے گا جس میں ان کی چمک، درجۂ حرارت اور عمر کا ذکر ہوگا۔ وہ ان کا زمین سے فاصلہ ناپنے کے علاوہ آسمان پر ان کی حرکت کا بھی جائزہ لے گا اور پندرہ کروڑ ستاروں کی رفتار بھی ناپے گا۔

ان سب اعداد و شمار کو سائنسدان ’ملکی وے‘ کی پیدائش کے بارے میں سہ رخی نشانیوں کے طور پر استعمال کریں گے اور اس کی مدد سے ایک ایسی’ٹائم لیپس‘ فلم تیار کریں گے جس کی مدد سے نہ صرف ماضی میں ہمارے کہکشاں کی تشکیل کے عمل کا پتہ چل سکے گا بلکہ مستقبل میں خلا میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی اندازہ لگایا جا سکے گا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر گیری گلمور کا کہنا ہے کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہمیں ملکی وے کے مکمل جائزے کا موقع دے گا۔ یہ انتہائی معلوماتی اور حالات بدل دینے والا مشن ہے۔‘

ایک دہائی کے بعد گائیا کی جانب سے جمع شدہ ڈیٹا ایک پیٹا بائٹ یا دس لاکھ گیگا بائٹ سے بھی زیادہ ہوگا اور پیشہ وار ماہرینِ فلکیات کو اس کا تفصیلی جائزہ لینے میں مزید کئی دہائیاں لگیں گی۔

اسی بارے میں