بڑھاپے سے واپس جوانی کی طرف جانے کا تجربہ

ایک عمر رسیدہ خاتون کی فوٹو
Image caption سائنسی جریدے ‘سیل‘ میں شائع ہونے والے اس تحقیق کے مطابق عمر کے بڑھنے اور اس کی واپسی کے عمل کا ایک نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے

امریکی سائنسدانوں نے جانوروں پر کی گئی ایک تحقیق میں بڑھتی ہوئی عمر کے عمل کو واپس جوانی کی طرف لے جانے کا ایک تجربہ کیا ہے۔

انہوں نے چوہے کے جسم کے ایک پٹھے کو جوان کیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ایسا ہے کہ گویا ساٹھ برس کی عمر کے پٹھے کو بیس سال کی عمر کا کر دیا جائے لیکن اس پٹھے کی طاقت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

سائنسی جریدے ’سیل‘ میں شائع ہونے والے اس تحقیق کے مطابق عمر کے بڑھنے اور اس کی واپسی کے عمل کا ایک نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے۔

دیگر محققین نے اسے ایک ’پرجوش نتیجہ‘ قرار دیا ہے۔

بڑھتی ہوئی عمر کو ہمیشہ آگے جانے والا عمل سمجھا جاتا ہے تاہم ہارورڈ میڈیکل سکول کے محققین نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کچھ پہلوؤں کو واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔

ان سائنسدانوں کی تحقیق کا مرکز ’این اے ڈی‘ نامی کیمیائی مادہ تھا۔ یہ جسم کے تمام خلیوں میں عمر کے ساتھ کمی کو متوازن رکھتا ہے۔

محققین کی ٹیم نے یہ دکھایا ہے کہ یہ کیمائی مادہ خلیوں کے اندر پائے جانے والے پاور سٹیشن کے نظام ’میٹوکونڈریا‘ میں خلل پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے خلیے بوڑھے ہوتے ہیں۔

تجربات سے پتا چلا کہ ’این اے ڈی‘ کی مقدار میں اضافہ بڑھاپے کو واپس لوٹا سکتا ہے۔ جیسا کہ اس تجربے میں چوہوں کو ایک ایسا کیمیائی مادہ دے کر جوان کیا گیا جو قدرتی طور پر ’این اے ڈی میں‘ تبدیل ہو گیا۔

دو سال کے چوہے میں ایک ہفتے تک دی جانے والے نوجوانی کی دوا سے اس کے پٹھے ’میٹوکونڈریال‘ نظام کے تحت چھ ماہ کی عمر کے چوہے جیسے ہو جاتے ہیں۔

ہارورڈ میڈیکل سکول میں جنیٹک ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اینا گومز کا کہنا ہے کہ ’ہم اسے ایک اہم دریافت سمجھتے ہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ طویل مدتی علاج سے پٹھوں کی طاقت بھی لوٹائی جا سکتی۔

تاہم یہ ہر لحاظ سے بڑھاپے کا علاج نہیں کئی دیگر عوامل جیسا کہ ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر گومز نے بی بی سے کو بتایا کہ ’بڑھاپے میں کئی عوامل ہوتے ہیں۔ یہ کوئی ایک چیز نہیں جسے ٹھیک کیا جائے۔ اس لیے ہر چیز کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے۔‘

اس تحقیق میں شامل سائنسدان ان نتائج کی بنیاد پر طبی تجربے دو ہزار پندرہ میں شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انسانوں میں اس طریقہ علاج کے لیے خاص وقت کے بارے میں ڈاکٹر گومز کہتی ہیں کہ ’ہم نہیں سجمھتے کہ آپ کو بیس سال کی عمر سے اس کا آغاز کرنا چاہیے اور مرتے دم تک یہ کرواتے رہیں۔‘ یہ تب کرنا چاہیے کہ جب آپ بوڑھے ہو جائیں لیکن اتنے بھی نہیں کہ نقصان ہو چکا ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اگرآپ چالیس سال کی عمر میں اسے شروع کریں تو آپ کے پاس ایک معقول وقت ہو گا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ابھی اس کے لیے تجربات کی ضرورت ہے۔‘

لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر ٹم سپیکٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک دلچسپ اور پر جوش دریافت ہے کہ بڑھاپے کے بعض پہلوؤوں کو واپس لوٹایا جا سکتا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا کہ چوہوں پر کیے گئے تجربے کا انسانوں پر ہونے والے اثرات کا اندازے لگانے کے لیے ابھی بہت طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔

دیگر سائنسدانوں نے بھی اس کے انسانوں کے لیے مناسب ہونے کے لیے ابھی مزید تحقیق اور تجربے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں