چمبل کے گھڑیال کی تصویر سے ملی عالمی شہرت

Image caption ادّین کو ایک مادہ گھڑیال کی اپنے بچوں کے ساتھ تصویر پر ایوارڈ ملا

عمر 14 سال، شوق جنگلی مخلوقات کا نظارہ اور اس کے ساتھ ہی وائلڈ لائف فوٹوگرافی۔ ادّين راؤ پوار نے حال ہی میں باوقار ینگ وائلڈ لائف فوٹوگرافر کا ایوارڈ جیتا ہے۔

ان کی جس تصویر کو انعام ملا ہے وہ چمبل دریا میں ایک مادہ گھڑیال کی تصویر ہے، جس کے سر اور پیٹھ پر اس کے بہت سے بچے کھیل رہے ہیں۔ گویا کوئی تاج ہو۔

دنیا سے نایاب ہوتے ہوئے جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود گھڑیال دنیا سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح کے گھڑیال کی محض چند سو تعداد ہی بچ گئي رہی ہے۔

دنیا بھر سے منتخب تصاویر میں سے ادّين کی اس تصویرکو وائلڈ لائف فوٹوگرافر کے نوجوان طبقے میں بہترین قرار دیا گیا ہے۔ وائلڈلائف فوٹو گرافی ایوارڈ دنیا کے اہم ترین مقابلوں میں سے ایک ہے اسے لندن نیچرل ہسٹری میوزیم اور بی بی سی وائلڈلائف میگزین مشترکہ طور پر منعقد کرتی ہے۔

بھارت کے شہر گوالیار میں نویں کلاس میں پڑھنے والے ادّين نے اس تصویر کی کہانی کچھ اس طرح بیان کی: ’مجھے جنگلی جانوروں میں کافی دلچسپی ہے۔ میں شیوپوری گیا تھا جہاں کچھ كھنڈر ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ وہاں چمبل دریا کے کنارے گھڑیالوں کا بسیرا ہے۔ مجھے گھڑیالوں کے بارے میں کچھ معلومات پہلے سے تھی۔گھڑیالوں کی ایک عادت ہوتی ہے کہ جب مادہ گھڑیال نکلتی ہے تو اس کے بچے لاڈ پیار میں اس کے سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ میں نے اسی لمحے کو کیمرے میں قید کر لیا۔‘

تاہم اس کے لیے ادّين کو تھوڑی محنت کرنی پڑی۔ ادّين بتاتے ہیں: ’میں نے شام کو معائینہ کیا کہ کہاں سے تصویر کھینچی جاسکتی ہے۔ میں ایک پہاڑی کے پیچھے جا کر چھپ گیا۔ پھر جیسے ہی صبح ہوئی میں نے دیکھا کہ ایک مادہ گھڑیال نکلی۔ اس کے بچے اس تک تیرتے ہوئے پہنچے اور پھر اس کے سر اور پیٹھ پر چڑھ گئے ۔ شاید یہی ان کی محبت ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔‘

ادّين بتاتے ہیں کہ دراصل انہیں وائلڈ لائف میں شروع سے دلچسپی رہی ہے اور بچپن میں ملنے والے پہلے کیمرے سے وہ پرندوں کو غور سے دیکھا پرکھا کرتے تھے جس کے بعد فوٹوگرفی کا شوق پیدا ہو گیا۔

گھڑیالوں کے تحفظ کے بارے میں ادّين کافی فکر مند ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کی تصویر کو ملنے والی مقبولیت سے شاید گھڑیالوں پر لوگوں کی توجہ جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرے کم یاب اور معدوم ہونے والے جانوروں کی طرح گھڑیالوں پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی ریت مافیا گھڑیالوں کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

اسی بارے میں