دماغ کے سرطان کی ویکسین کے تجربات شروع

Image caption محققین کے مطابق سرطان کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اور بہتر علاج وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے

دماغ کے شدید سرطان کے علاج کے لیے ویکسین تیار کرنے کے تجربات شروع ہو گئے ہیں۔

لندن کے کنگز کالج ہسپتال میں یورپ کے پہلے مریض رابرٹ ڈیمیگر کو پہلی خوراک دی گئی ہے۔ 62 سالہ ڈیمیگر کو اس سال کے اوائل میں سرطان تشخیص ہوا تھا۔

اس ویکسین کا مقصد جسم کے مدافعتی نظام کو رسولی کے خلیوں کے خلاف لڑنے کی تربیت فراہم کرنا ہے۔

کنگز ہسپتال ان 50 ہسپتالوں میں سے ایک ہے جن میں اس علاج کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ بقیہ ہسپتال امریکہ میں ہیں۔

ڈیمیگر سٹیج اور ٹی وی کے اداکار ہیں۔ انھیں نیشنل تھیئیٹر کی جانب سے شیکسپیئیر کے ڈرامے ’اوتھیلو‘ میں اس بیماری کے باعث اپنا کردار ترک کرنا پڑا تھا۔

انھوں نے کہا: ’میرا ایک شاگرد تھا، اور میں نے اس سے کہا تھا کہ جب میں سٹیج پر بیمار پڑ جاؤں تو میری جگہ لے لینا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔

’آخرکار تشخیص ہوئی کہ میرے دماغ میں رسولی ہے جس کا چند دنوں کے اندر اندر آپریشن ہونا ضروری ہے۔‘

سرجنوں نے آپریشن کر کے ڈیمیگر کے دماغ سے رسولی کے جتنے حصے نکالے جا سکتے تھے، نکال لیے۔ اس کے بعد انھیں تجربہ گاہ میں خصوصی مدافعتی خلیوں کے ساتھ زندہ رکھا گیا۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ مدافعتی خلیے رسولی کے خلیوں کو شناخت کر لیں۔ اس کے بعد مدافعتی خلیوں سے بننے والی ویکسین کو مریض کے بازو میں اس امید کے ساتھ انجیکٹ کیا گیا کہ یہ جسم میں موجود مدافعتی نظام کے خلیوں کو سرطانی خلیے شناخت کر کے تباہ کرنے کی تربیت دے گی۔

کنگز ہسپتال کے نیوروسرجن کیومرس اشکان برطانیہ میں اس تجربے کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دماغی سرطان کے نئے اور بہتر علاج کی اشد ضرورت ہے:

’ہر مریض کے لیے ایک ہی طریقۂ علاج کارگر نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مریض کے اپنے سرطانی خلیوں کی بنیاد پر ہر مریض کے لیے انفرادی علاج وضع کیا جائے۔‘

اس سرطان کے مریضوں کی شرحِ بقا 12 سے 18 ماہ ہوتی ہے۔ امریکہ میں اس تجرباتی علاج کے بعد دیکھا گیا کہ مریضوں کی زندگیوں میں مضر اثرات کے بغیر دو سے تین سال کا اضافہ ہو گیا، جب کہ 20 میں سے دو مریض علاج کے دس سال بعد آج بھی زندہ ہیں۔

اسی بارے میں