’ذیابیطس کا ایک جین نی اینڈرتھال سے آیا ہے‘

Image caption نی اینڈرتھال آج سے 30 ہزار سال قبل تک یورپ میں رہتے تھے، تاہم جدید انسانوں کے یورپ جانے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی نسل معدوم ہو گئی

ایک سائنسی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی امریکہ کے باشندوں میں جو جین ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے، وہ دراصل قدیم انسان نی اینڈرتھال سے آیا ہے۔

جدید تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب جدید انسان آج سے 60 سے70 ہزار پہلے افریقہ سے نکلا تو اس کا قدیم انسان نی اینڈرتھال سے اختلاط ہوا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام غیر افریقی انسانوں کے ڈی این اے میں نی اینڈرتھال کے جین بکھرے ہوئے ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق میکسیکو اور لاطینی امریکہ کے آٹھ ہزار باشندوں پر کی گئی، جس کے دوران یہ دیکھا گیا کہ آیا ان لوگوں کے جین کس خصوصیت سے وابستہ ہیں۔

جن لوگوں میں ایک خاص قسم کا جین موجود تھا، معلوم ہوا کہ ان میں ذیابیطس کا خطرہ عام لوگوں سے 25 فیصد زیادہ ہے۔ جن لوگوں کے دونوں ماں باپ میں یہ جین پایا گیا انھیں ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ 50 فیصد سے زیادہ دیکھا گیا۔

SLC16A11 نامی یہ جین آبائی امریکی باشندوں کی نصف آبادی میں پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ جین 20 فیصد مشرقی ایشیائی باشندوں میں بھی دیکھا گیا، جب کہ یہ یورپ اور افریقہ میں خال خال پایا جاتا ہے۔

لاطینی امریکہ کے باشندوں میں ذیابیطس درجہ دوم کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ یہ جین ہے۔

امریکہ ریاست میساچوسٹس کے ہارورڈ میڈیکل سکول کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن اور اس تحقیق کے شریک مصنف ہوزے فلوریس کہتے ہیں: ’آج تک زیادہ تر تحقیق یورپی یا ایشیائی باشندوں پر ہوتی رہی ہے، جس سے دوسری آبادیوں میں پائے جانے والے بیماریوں کے جین چھپے رہے ہیں۔

’میکسیکو اور لاطینی امریکہ کے باشندوں کو شامل کر کے ہم نے اب تک جین اور بیماری کے درمیان سب سے مضبوط دریافت شدہ تعلق ڈھونڈ نکالا ہے، جس سے نئی ادویات بنانے میں اس مرض کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘

تحقیق کاروں نے دریافت کیا کہ SLC16A11 جین حال ہی میں سائبیریا سے ملنے والے نی اینڈرتھال کے جینوم میں بھی پایا گیا۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھانے والا جین SLC16A11 نی اینڈرتھال کے ساتھ جنسی اختلاط کے نتیجے میں داخل ہوا ہے۔

انسانوں میں نی اینڈرتھال کے اور بھی جین پائے جاتے ہیں۔ موجودہ غیر افریقیوں کے کل ڈی این اے کا دو فیصد قدیم انسان نی اینڈرتھال کے جینز پر مشتمل ہے۔

نی اینڈرتھال آج سے 30 ہزار سال قبل تک یورپ میں رہتے تھے، تاہم جدید انسانوں کے یورپ جانے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی نسل معدوم ہو گئی۔

اسی بارے میں