چیک کی ادائیگی بذریعہ تصویر اور موبائل فون

برطانیہ میں ایک بینک نے اس منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت صارفین سمارٹ فون سے بینک کے چیک کی تصویر کھینچ کر اس سے اپنے اکاؤنٹ میں رقم کی ادائیگی کر پائیں گے۔

بجائے اس کے کہ صارفین بینک میں جائیں وہ صرف چیک کی تصویر لے کر اسے الیکٹرانک طریقے سے جمع کروا سکیں گے۔

برطانوی حکومت اس معاملے پر عوام سے رائے طلب کرنے کا سوچ رہی ہے تاکہ اس حوالے سے ضروری قانون سازی کی جا سکے۔

اس طریقے کی وجہ سے چیک کو موجوہ چھ دنوں کی بجائے صرف دو دن میں جمع کیا جا سکے گا۔

بینکوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے رقم کی ترسیل آسان اور محفوظ ہو گی۔

بارکلے بینک کے سربراہ اینٹونی جینکنز کا کہنا ہے کہ ’ایک ورچوئل دنیا میں کام کرنے سے صارفین کے لیے بہترین تجربہ کا موقع ملے گا جو کہ آج کے کاغذی تجربے سے بہت بہتر ہو گا۔‘

چیک کی تصاویر موبائل پر محفوظ نہیں کی جائیں گی تو اس وجہ سے ان کے غلط ہاتھوں میں جانے کا خدشہ نہیں ہو گا اگر وہ گم یا چوری ہو جاتا ہیں۔

اسی طرح کی ٹیکنالوجی آج سے نو سال قبل امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں سے قبل جاری کی گئی تھی۔

اس کے لیے نیا قانون چیک 21 منظور کیا گیا تھا جس کی مدد سے چیکوں کو ایلکٹرانک طریقے سے منتقل کیا جا سکا تھا بجائے اس کے کہ کاغذوں کو ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجایا جائے۔

حکومتِ برطانیہ کا خیال ہے کہ اس کام کے لیے قانون کی تبدیلی سے چیکوں کے استمعال کے تسلسل کو بھی قائم رکھا جا سکے گا۔

برطانوی ترسیلات کی کونسل ابتدائی طور پر تمام چیکوں کے ذریعے ادائیگیوں کو 2018 سے بند کرنے کا سوچ رہی تھی مگر عوام کی جانب سے ردِ عمل سامنے آنے کے بعد اسے تبدیل کر لیا گیا۔

برطانوی خزانے کے شعبے کے فنانشل سیکرٹری ساجد جاوید نے کہا کہ ’ہم اب مزید تجدید چاہتے ہیں تاکہ صارفین نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘

سنہ2012 میں عام شہریوں کی جانب سے کی گئی ادائیگیوں میں سے دس فیصد چیک کے ذریعے جبکہ کاروباری صارفین کی جانب سے پچیس فیصد ادائیگیاں چیکوں کے ذریعے کی گئیں۔

بینکوں کا کہنا ہے کہ نوجوان صارفین بہت کم چیک استعمال کرتے ہیں جنہیں اب بھی قبول کیا جاتا بذریعہ ڈاک یا آپ خود برانچ میں جا کر جمع کرواتے ہیں۔

Image caption بینک کے شعبے سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ نوجوان صارفین چیک استمال نہیں کرتے

بارکلے بینک اپریل سنہ 2014 سے اس نئے طریقے سے چیک کی ادائیگی کے لیے ایک منصوبہ کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی سے ملازمتوں کے جانے کا بھی خدشہ ہے اور گزشتہ مہینے ہی بارکلے بینک نے 1700 مزید ملازمتوں کے ختم کرنے کا اعلان کیا اپنی برانچوں سے جن کی بنیادی وجہ موبائل ٹیکنالوجی تھی۔

سنہ 2012 سے جولائی 2013 تک بارکلے بینک نے 37 برانچیں بند کی اور مزید بند کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

اینٹونی جینکنز نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ لوگ برانچوں میں کم سے کم جاتے ہیں خاص طور پر موبائل بینکنگ کی وجہ سے اور اس عمل میں تیزی آئے گی۔‘

بارکلے بینک کا اپنی آٹھ برانچوں کو سپر مارکیٹ ایزڈا میں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔

تاہم بینک کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ صارفین اگر چاہیں تو اب بھی برانچوں میں جا کر ادائیگی کر سکیں گے۔