ایک کروڑ پاکستانی فیس بک پر مگر خواتین بہت کم

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر موجود اعدادو شمار کے مطابق فیس بک کے پاکستان میں صارفین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے جس میں دس لاکھ کا اضافہ 2013 کی آِخری سہ ماہی میں ہوا۔

اگر موجودہ اعداودشمار کو دیکھا جائے تو یہ فیس بک کے ایک کروڑ سولہ لاکھ سے زیادہ صارفین فیس بُک کو پاکستان کی سب سے مقبول سماجی رابطوں کی ویب سائٹ بنا دیتے ہیں۔

تاہم اس بات کو حتمی طور پر اس لیے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ پاکستان کے حوالے سے معین اعداد و شمار بہت سی ویب سائٹس کے حوالے سے دستیاب نہیں ہیں۔

پاکستان میں فیس بُک کے ایک کروڑ صارفین میں سے بیاسی لاکھ سے زیادہ مرد جبکہ بتیس لاکھ خواتین ہیں۔

بلاگر اور انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر اور سرگرم کارکن ثنا سلیم کا اس صنفی تفریق کے عوامل کے بارے میں کہنا تھا کہ ’بہت بڑا مسئلہ رسائی کا ہے جس کے حوالے سے خواتین کے لیے مسائل ہیں اور دوسری جانب فیس بک کی پروائیویسی کے مسائل خواتین خاص طور پر پاکستانی معاشرے کے تناظر میں اس پر اپنے کو محفوظ نہیں سمجھتی ہیں۔‘

بہت سے مبصرین کا خیال ہے ان خواتین میں سے بہت سے وہ اکاؤنٹ بھی ہیں جو مردوں نے خواتین کے نام سے یا مارکیٹنگ کے لوگوں نے بنائے ہیں۔

ایک انٹرنیٹ مارکیٹیئر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر کسی بھی صفحے یا اکاؤنٹ کی تشہیر کرنی ہے تو لڑکی کے نام سے اکاؤنٹ بنا لیں بہت تیزی سے مقبول ہو گا۔

ثنا سلیم کا بھی کہنا تھا کہ ’فیس بک کے پروائیویسی کے مسائل بہت زیادہ ہیں اور جس قسم کے پیغامات اس پر آپ کو آتے ہیں ان سے اس پر میں بھی محفوظ تصور نہیں کرتی۔‘

ثنا کا کہنا تھا کہ اگر ان کے کچھ کام سے متعلقہ معاملات انٹرنیٹ پر نہ ہوتے تو وہ اپنا اکاؤنٹ بند کر دیتیں اور ان کی کئی خواتین دوست ایسا کر چکی ہیں۔

انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم بائٹس فار آل سے تعلق رکھنے والے فرحان حسین کا فیس بُک کے صارفین کی تعداد میں اضافے کے بارے میں کہا کہ یہ متوقع ہے۔

فرحان حیسن نے کہا کہ ’اس کے بہت سارے عوامل ہیں جن میں موبائل فون کا عام ہونا بھی بہت اہم ہے اور اس پر انٹرنیٹ کی دستیابی نے اس میں بہت مدد کی ہے۔ ہم نے جنوبی پنجاب کے بعض دور افتادہ علاقوں میں لوگوں کو موبائل پر فیس بُک استعمال کرتے دیکھا ہے۔‘

فرحان کا خیال تھا کہ ’ان محدود وسائل اور انٹرنیٹ کی دستیابی میں حائل مسائل کے باوجود یہ ہماری حکومت کے لیے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ اوپن گورنمنٹ یعنی عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کے لیے کوششیں کریں جہاں لوگ اپنے مسائل اور ردِ عمل حکومت تک پہنچانے کی سہولت رکھتے ہوں جس سے احتساب میں بھی مدد ملے گی۔‘

فیس بک کے صارفین کی تعداد نہ صرف عام شہریوں بلکہ کاروباری طبقوں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتی ہے جو اس کا موثر استعمال کر کے عوام تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور کم سرمائے سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں