برطانیہ:’بریسٹ امپلانٹس‘ کی رجسٹریشن کا فیصلہ

Image caption سنہ 2005 میں برطانیہ میں چھاتی کے امپلانٹس کا کاروبار 75 کروڑ پاؤنڈ کا تھا جو سنہ 2010 میں بڑھ کر دو ارب 30 کروڑ پاؤنڈ کا ہو گیا

برطانیہ میں مصنوعی پستان یا چھاتی کے امپلانٹ کے معاملات میں روز افزوں شکایات کے پیش نظر چھاتی کے امپلانٹس کے ریکارڈز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس طرح کے امپلانٹس کے ریکارڈز رکھنے کا ابھی تک کوئی مرکزی نظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے ڈاکٹر اپنے مریضوں کو خراب امپلانٹ کے معاملات اور خطرات کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتا پاتے تھے۔

اب ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے محکمۂ صحت کے حکام کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں گے یا نہیں۔

مصنوعی پستان امپلانٹ کو فروغ دینے والے اشتہارات کے خلاف بھی برطانوی حکومت کارروائی کر سکتی ہے۔ ایسے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ’وِن اے بوب جاب‘ یعنی اپنی گرل فرینڈ کے لیے مفت چھاتیامپلانٹ کی تجاویز جیسی کوششوں یا ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے مقابلوں یا اشتہارات پر حکومت کی جانب سے پابندی لگ سکتی ہے۔

خوبصورتی میں اضافے کا دعوی کرنے والی یہ صنعت زوروں پر ہے۔ سنہ 2005 میں برطانیہ میں چھاتی کے امپلانٹس کا کاروبار 75 کروڑ پاؤنڈ کا تھا جو سنہ 2010 میں بڑھ کر دو ارب 30 کروڑ پاؤنڈ کا ہو گیا۔

ایک تخمینے کے مطابق سنہ 2015 تک اس بازار میں مزید ایک ارب 30 کروڑ پاؤنڈ اضافے کا امکان ظاہر کیا گيا ہے۔

پستان کے امپلانٹ میں وسیع بدعنوانی کے سبب ڈاکٹروں نے اسے خراب کنٹرول اور ممکنہ بحران والے شعبے سے تعبیر کیا ہے۔

ایک تجزیے میں اس طرح کے امپلانٹ کو برطانیہ میں ’ڈیٹا فری زون‘ قرار دیا گیا ہے جہاں اس کے متعلق اعداد و شمار نہیں ہیں کہ کس خاتون نے چھاتیامپلانٹ کرایا اور کیا اس کے بعد انہیں کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا۔

برطانیہ میں قومی صحت منصوبہ ( این ایچ ایس) اور بعض دیگر کمپنیاں چھاتی کے امپلانٹ رجسٹریشن کے نظام کی جانچ کریں گی۔ یہ اسی طرح ہوگا جس طرح کولہوں کے آپریشن کے لیے نیشنل جوائنٹ رجسٹری کو پورے انگلینڈ میں لازمی بنانے سے قبل ہوا کرتا تھا۔

انگلینڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر ڈین پولٹر نے بی بی سی کو بتایا: ’بریسٹ امپلانٹ کے گھپلے نے اس صنعت کے ایک ایسے نظام پر روشنی ڈالی ہے جو مشکوک نظر آتی ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہمیں مؤثر طور پر یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ خواتین میںامپلانٹ کے معیار کیا ہیں۔ اس کے ذریعے ہم اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ جب بھی کوئی غلطامپلانٹ ہو تو ہم فوری کارروائی کر سکیں۔‘

محکمہ صحت نے بھی کہا ہے کہ وہ ’ایک کے ساتھ ایک مفت جیسی غیر ذمہ دارانہ مارکیٹنگ پر روک تھام کے لیے ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈ اتھارٹی (اے ایس اے) کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

پستانوں کو ’بہتر‘ کرنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اے ایس اے پہلے بھی اس طرح کے اشتہارات پر پابندی لگا چکا ہے۔

Image caption مصنوعی پستان کے امپلانٹ سے منسلک خطرات اور اس میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کے تحت برطانیہ میں اس کے ریجسٹریشن کا فیصلہ لیا گیا ہے

ڈاکٹر پالٹر نے کہا: ’اس طرح کے اشتہارات غیر ذمہ دارانہ ہیں کیونکہ یہ خواتین کی زندگی کا طریقہ ہی بدل دیتے ہیں اس لیے ہمیں خوبصورتی کی صنعت میں سرگرم ان کمپنیوں سے اشتہارات کے تئیں مزید ذمہ داری برتنے کی امید ہے۔ بصورت دیگر ہم ان پر شکنجہ کسنے جا رہے ہیں۔‘

اسی ضمن میں رائل کالج آف سرجن نے کاسمیٹک سرجری کے لیے نئی اہلیت اور کاروباری معیار بنانے کا اظہار کیا ہے۔

پلاسٹک سرجن اور برطانیہ کے پلاسٹک سرجنوں کی تنظیم کے صدر راجیو گروور کہتے ہیں: ’لوگوں کو كاسمیٹك سرجری کروانے سے پہلے اس سے منسلک خطرات، توقعات، خدمت کرنے والے کی اہلیت کے بارے میں جان لینا چاہیے۔امپلانٹ کا فیصلہ کرسمس آفرز کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں