انٹارکٹکا: تمام مسافر محفوظ، ریسکیو آپریشن مکمل

Image caption ہم آسٹریلوی آئس بریکر ارورا اوسٹریلس پر باحفاظت پہنچ گئے ہیں اور ہم چینی ہیلی کاپٹر کے بہت شکر گزار ہیں: مہم کے سربراہ کرس ٹرنی

آسٹریلیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انٹارکٹکا میں خراب موسم کے باعث برف میں پھنسے جہاز کے مسافروں کو فضائی امدادی کارروائی کر کے بحری جہاز پر پہنچا دیا گیا ہے۔

آسٹریلوی امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے جہاز پر موجود سائنس دانوں اور سیاحوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے آسٹریلوی بحری جہاز پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اس مہم کے سربراہ کرس ٹرنی نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہم آسٹریلوی آئس بریکر ارورا اوسٹریلس پر باحفاظت پہنچ گئے ہیں۔ ہم چینی ہیلی کاپٹر کے بہت شکر گزار ہیں۔‘

جس ہیلی کاپٹر نے ان افراد کو محفوظ مقام پر پہنچایا ہے وہ ہیلی کاپٹر چینی آئس بریکر کا تھا۔

امدادی کارکنان کے مطابق پھنسے ہوئے جہاز پر جانا اور وہاں سے مسافروں کو اٹھا کر آسٹریلوی جہاز تک پہنچانے میں 45 منٹ لگے۔

انٹارکٹکا کی برف میں پھنسا جہاز، تصاویر

منصوبے کے تحت سائنسی مشن پر گامزن اکیڈیمیشن شوکالسکیے نامی روسی بحری جہاز پر سوار افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چینی جہاز شوے لانگ پر لایا جانا تھا۔ موسمی حالات اور چینی جہاز کے خود برف میں پھنس جانے کے بعد اس کا امکان کم ہو گیا تھا تاہم اب امدادی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

اکیڈیمیشن شوکالسکیے پر 74 افراد موجود تھے جن میں سائنس دان اور سیاح شامل تھے۔ یہ جہاز کرسمس سے ایک رات قبل سے برف میں پھنسا ہوا ہے۔ اس سے قبل اب تک برف توڑنے والے تین بحری جہاز اس کی مدد کے لیے بھیجے گئے ہیں لیکن یہ تینوں مہمات ناکام رہیں۔

اس سے پہلے آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کے ریسکیو کورڈینیشن سنٹر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اکیڈیمیشن شوکالسکیے کے مسافروں کے لیے جمعرات کو امدادی کارروائی کے پلان پر عمل نہیں ہو سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سمندری برف کی صورتِ حال کی وجہ سے برف توڑنے والا آسٹریلوی بجری جہاز ارورا آسٹریلس کی بارج چینی جہاز تک نہیں پہنچ سکے گی۔ اس بارج کی ضرورت اس لیے ہے کہ ارورا آسٹریلس پر ہیلی کاپٹر اتر نہیں سکتا اور اس کے قریب ہیلی کاپٹر کو اتارنا انتہائی خطرناک ہے۔‘

’ہمارے لیے بہترین اور محفوظ ترین منصوبہ تو یہ تھا کہ ہم ایک ہی مرحلے میں مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیتے مگر مختلف مسائل کی وجہ سے ہمیں مرحلہ وار کارروائی کرنا پڑ رہی ہے۔‘

صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے روسی جہاز سے چینی جہاز تک پہنچنے کا مرحلہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

روسی جہاز انٹارکٹکا میں فرانسیسی سٹیشن سے 100 ناٹیکل میل کی دوری پر پھنسا ہوا ہے۔ متاثرہ جہاز آسٹریلیشین انٹارکٹک سائنسی مہم میں شریک ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ جہاز برف کی اس موٹی چادر کے درمیان پھنس گیا ہے جو تیز ہواؤں کے نتیجے میں وہاں پہنچی تھی۔

سائنسی اور تحقیقی ٹیم کے سربراہان کرس ٹرنی اور کرس فوگول کے مطابق شوکالسکیے جہاز میں غذا کافی مقدار میں موجود ہے اور مسافروں کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔

اگرچہ جہاز وقتی طور پر پھنسا ہوا ہے تاہم سائنسدان اپنے تجربات میں مشغول ہیں۔ وہ برف میں شگاف کے ذریعے درجۂ حرارت اور شوریت کی جانچ کر رہے ہیں۔

سائنس کے رضاکار شون بورکووک نے بی بی سی کو بتایا: ’یقینی طور پر ہم اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہمیں بہترین روشنی دیکھنے کو ملی ہے اور موسم بھی بہت حد تک معتدل ہے۔ جہاز ٹھوس نظر آ رہا ہے اور میرے خیال میں ہم اچھی حالت میں رہیں گے۔‘

عصر حاضر کے اس آسٹریلیشین انٹارکٹک مہم کا مقصد ایسی پیمائشوں کی دوبارہ جانچ کرنی ہے جسے تقریباً ایک صدی قبل موسن مہم کے دوران کیا گیا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ ان راستوں اور علاقوں میں گذشتہ ایک صدی میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں