وقفے دار کم خوراکی کے جسم پر اثرات

Image caption بی بی سی کے پیٹر باؤس کے خون کے نمونے لیے جا رہے ہیں

وقفے دار کم خوراکی سے جو اچھی تبدیلیاں میرے جسم میں رونما ہوئیں، ان میں کوئی اچنبھے والی بات نہیں تھی۔ ہر ماہ میں پانچ دن بہت کم کھانے سے یہ ہوا کہ میرا وزن کم ہوا، مجھے بھوک لگی۔ میں نے کئی بار خود کو بہت چُست محسوس کیا گو کہ میں بہت جلد تھک جاتا تھا۔ لیکن اس کے کچھ اور اثرات بھی تھے جو شاید زیادہ اہم تھے۔

کیا وقفے دار کم خوراکی وزن کم کرنے کیلیے مؤثر ہے؟

ذائقہ حواس پر کیوں چھایا رہتا ہے؟

کیڑے مکوڑے کھائیں: عالمی ادارۂ خوراک

ہرماہ پانچ روزہ کم خوراکی کے اس دور میں جب میں ایک عام آدمی کی یومیہ خوراک کا 25 فیصد کھاتا تھا تو میرا وزن دو کلو کم ہو جاتا، لیکن اگلے ماہ دوبارہ کم خوراکی سے قبل معمول کی غذا کھانے سے میرا وزن دوبارہ پہلے جتنا ہو جاتا۔

تاہم اس کم خوراکی کے باقی اثرات اتنی جلدی معدوم نہیں ہوتے تھے۔

چوہوں میں بھی اسی طرح کے نتائج کا مشاہدہ کرنے والے یو ایس سی کے ڈاکٹر والٹر لونگو کا کہنا ہے کہ ’ہم ان میں سے کچھ اثرات کو معمول کی خوراک کے دنوں میں میں برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

بلڈ پریشر

طبی تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ کم خوراکی کے دور میں میرے سسٹالک بلڈ پریشر (بلڈ پریشر کا اوپر والا ہندسہ، جو صحت مند انسانوں میں عام طور پر 120 ہوتا ہے) میں دس فیصد کمی ہوئی تاہم ڈائسٹالک بلڈ پریشر (بلڈ پریشر کا نچلا ہندسہ، جو صحت مند انسانوں میں عام طور پر 80 ہوتا ہے) معمول کے مطابق رہا۔ یہ بلند فشار خون کے مریضوں کے لیے حوصلہ افزا خبر ہے۔

لیکن یہ بھی میرے وزن کی طرح عام خوراک کے دنوں میں پہلے جیسا ہو گیا جو صت مند صورت حال نہیں ہے۔

محقیقن اس بات پر بھی غور کریں گے کہ کم خوراکی کے ادوار کا دہرایا جانا لوگوں میں فشار خون کو قابو کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

IGF-1 ہارمون

سب سے دلچسپ تبدیلی IGF-1 نامی ہارمون کی پیداوار میں آئی۔ یہ ہارمون جگر میں بنتا ہے اور اس کی زیادتی خون میں کولیسٹرول میں اضافے اور چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کا باعث بنتی ہے۔ جسم میں IGF-1 کی کمی ان خطرات کا امکان کم کردیتی ہے۔

مطالعے سے سامنے آیا کہ کم خوراکی سے IGF-1 کے درجے میں کمی واقع ہوتی ہے اور معمول کی خواراک پر لوٹنے کے باوجود یہ کچھ عرصے تا کم ہی رہتا ہے۔

میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ میرے جسم میں IGF-1 کی مقدار میں 60 فیصد کمی ہوئی اور معمول کی خوراک کے باوجود یہ 20 فیصد تک کم ہی رہا۔

ڈاکٹر لونگو کے مطابق اس قسم کے واضح فرق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مخصوص کینسروں کا شکار افراد کے لیے یہ کتنا اہم ہے۔

IGFBP-1 میں اضافہ

میرے خون کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی IGF-1 کو روکنے والا ایک اہم جز جسے IGFBP-1 کہا جاتا ہے، کم خوراکی کے دور میں کافی حد تک بڑھا۔ حتٰی کہ جب میں واپس اپنی نارمل خوراک پر آیا اس وقت بھی IGFBP-1 کی سطح بہت زیادہ تھی۔

ڈاکٹر لونگو کے مطابق میرا جسم اب اسی طریقۂ کار کا عادی ہو گیا ہے اور یہ صحت مند بڑھاپے کے لیے فائدہ مند ہے۔

اگر اس تجربے کے دیگر شرکا کے نتائج بھی اسی طرز کے آتے ہیں تو سائنس دانوں کو وقفے دار کم خوراکی کا ایک ایسا اصول وضع کرنے میں مدد ملے گی جس کی وجہ سے لوگ زیادہ تر عام خوراک کھا کر بھی بڑھاپے کے عمل کو سست کر پائیں گے۔

ڈاکٹر لونگو کا خیال ہے کہ ہر 60 دن کے بعد پانچ دن کا وقفہ بھی جسم میں مثبت تبدیلیوں کے آغاز کے لیے اچھا ہے:

’ہمارا خیال ہے کہ لوگ 55 دن اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے یہ طے کریں کہ اگلے پانچ دن کی کم خوراکی کے دوران انھیں کیا کھانا ہے۔ وہ شاید اس کے لیے یہ نہ سوچیں کہ یہ ان کا بہترین کھانا ہوگا، لیکن یہ بہت آسان ہے۔ چلیں ایسا کہہ لیں کہ انھیں مکمل بھوکا نہیں رہنا ہوگا۔ اور یہ مکمل بھوکا رہنے کی نسبت محفوظ بھی ہے اور شاید زیادہ زود اثر بھی۔‘

کم خوراکی کے پانچ دنوں میں جو کچھ میں نے کھایا، وہ کوئی بہت اعلیٰ پائے کے نفیس کھانے نہیں تھے، بلکہ میں خوش تھا کہ کچھ کھانے کو مل رہا ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو کیلوریز میں کمی کے لیے فاقہ کشی کی حمایت کرتے ہیں۔

خلیوں کی تجدید (ری جنریشن)

Image caption کم خوراکی کے دور میں لی جانے والی غذا کا لذیذ نہیں بلکہ صحت مند ہونا ضروری ہے

میرے خون کے تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ جسم میں موجود ایک قسم کے اہم خلیوں یعنی سٹیم سیلز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو ریشوں اور اعضا کی تجدید میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وقفے دار کم خوراکی کے نتیجے میں اگر جسم کے اندر خود ساختہ تجدید کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ بہت فائدہ مند چیز ہے تاہم ابھی ان مشاہدات کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کم خوراکی کا یہ اصول ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد دیگر سائنس دان بھی ان نتائج کی جانچ پڑتال کریں گے اور شاید یہی نتائج دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

مستقبل میں کیے جانے والے طبی تجربوں میں ان لوگوں پر دھیان دیا جائے گا جنہیں خطرات لاحق ہیں جن میں موٹاپے کا شکار افراد شامل ہیں اور جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ ان کے جسموں پر پابند خوراک سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں