بھارت: کرایوجینک انجن والے خلائی راکٹ کا کامیاب تجربہ

بھارت نے پہلی مرتبہ خلا میں ایسا راکٹ روانہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کا ’ کرایوجینک‘ انجن مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

یہ راکٹ اتوار کی شام شری ہری کوٹا کے خلائی مرکز سے خلا میں روانہ کیا گیا اور اسے بھارت کے خلائی پروگرام اور خلائی ادارے ’اسرو‘ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

’کرایوجینک‘ راکٹ میں ایسا مائع ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جسے انتہائی کم درجۂ حرارت پر رکھا جاتا ہے۔

روانگی کے سترہ منٹ بعد اس راکٹ نے ایک مواصلاتی سیارے کو خلا میں کامیابی سے چھوڑا۔

’اسرو‘ کے چیئرمین کے رادھا کرشنن نے لانچ کے بعد کہا: ’یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ میں یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہوں کہ اسرو نے یہ کر دکھایا ہے۔ ہمیں 20 برسوں کی محنت کا پھل ملا ہے۔‘

وزیراعظم منموہن سنگھ نے ’اسرو‘ کے سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’بھارت نے سائنس اور خلائی تکنیک کے شعبے میں ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔‘

کرایوجینک انجن والے اس راکٹ کو خلا میں بھیجنے کی گذشتہ تین کوششیں ناکام رہی تھیں۔

پہلی مرتبہ انجن کا ایک بوسٹر پمپ جام ہو گیا تھا اور دوسری بار جب رابطے میں ناکامی کی وجہ سے راکٹ کو فضا میں ہی تباہ کرنا پڑا تھا۔

اگست 2013 میں اسے خلا میں روانہ کرنے کا منصوبہ اس وقت ملتوی کرنا پڑا تھا جب لانچ سے 74 منٹ پہلے ہی راکٹ سے ایندھن کے اخراج کی اطلاع ملی تھی۔

اس راکٹ کے کامیاب تجربے سے بھارت اب دوسرے ممالک کے مواصلاتی مصنوعی سیارے بھی خلا میں روانہ کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت خلا میں اپنی پہچان بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور وہ مریخ پر پہنچنے والی پہلی ایشیائی قوم بننے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

اسی بارے میں