آئی ایس ایس کو 2024 تک استعمال میں رکھنے کی وائٹ ہاؤس کی حمایت

Image caption ناسا کے بہت سے اہل کاروں کا خیال ہے کہ یہ سٹیشن 2028 تک محفوظ انداز میں کام کر سکتا ہے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے دورانیے میں طول کے لیے وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو 2020 تک استعمال میں رہنا تھا تاہم اب وائٹ ہاؤس اسے 2024 تک سروس میں رکھنے کا حامی ہے۔ ناسا کے بہت سے اہل کاروں کا خیال ہے کہ یہ سٹیشن 2028 تک محفوظ انداز میں کام کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر 1998 میں شروع ہوئی تھی اور یہ امریکہ، روس، چین، جاپان اور یورپی خلائی ایجنسی کے ممالک کا مشترکہ پروجیکٹ ہے۔ اس سٹیشن کو 2020 کے بعد بھی استعمال میں رکھنے کے فیصلے پر عمل کے لیے دیگر ممالک کو بھی منظوری دینا ہوگی۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے نگراں ناسا کے بلِ گرسٹن مائر نے صحافیوں کو بتایا کہ چند ممالک کی جانب سے اس سٹیشن کو سروس میں رکھنے کی منظوری نہ دینے کی صورت میں بھی یہ اقدام قابلِ عمل ہے تاہم انھوں نے توقع ظاہر کی کہ تمام شرکا اسے طول دینے پر راضی ہو جائیں گے۔

ان کا خیال تھا کہ اس سلسلے میں معاہدے طے پانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے مگر ’دس سال کے بعد کے لیے یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے (غیر ملکی) ساتھیوں سے بات کی ہے اور اس فیصلے سے پہلے کی گئی تحقیقات میں وہ ہمارے ساتھ شریک تھے۔ ہمارا تاثر یہ ہے کہ وہ سب اسے مستقبل کے لیے مثبت قدم سمجھتے ہیں۔‘

یورپی خلائی ایجنسی کا سب سے بڑا حصہ دار ملک جرمنی 100 ارب ڈالر کے اس سٹیشن کے 2020 کے بعد بھی استعمال کا حامی ہے۔

جرمنی خلائی ایجنسی (ڈی ایل آر) کے چیئرمین جان وہئرنر کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو 2020 کے بعد بھی استعمال کرنے کا حامی ہے۔ یہی جرمن موقف ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ دیگر یورپی ممالک بھی یہی لائحۂ عمل اختیار کریں گے اور اس کے لیے پیسے دیں گے۔‘

یہ بات انھوں نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کی جہاں وہ جرمنی خلائی ایجنسی اور یورپی خلائی ایجنسی کے ایک نجی کمپنی سیئیرا نیواڈا کارپوریشن (ایس این سی) کے ساتھ اشتراک کا اعلان کر رہے تھے۔ ایس این سی ایک خلائی شٹل تیار کر رہی ہے جو خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے لایا اور لے جایا کرے گی۔

ابھی خلائی سٹیشن تک سفر کے لیے صرف روسی سوئیز کیپسول استعمال ہوتے ہیں۔ اسی لیے ناسا امریکی کمپنیوں کے ان کا متبادل تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

ایس این سی کی چھوٹے حجم کی شٹل کا نام ’ڈریم چیزر‘ ہوگا اور اسے فلوریڈا کے شہر کیپ کنیورل سے ایٹلس راکٹ کی مدد سے خلا میں بھیجا جائے گا۔

اسی بارے میں