’اینٹی بائیوٹکس کا سنہری دور ختم ہونے کو ہے‘

اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیموں کا بڑھتا ہوا خطرہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

برطانیہ میں سب سے بڑے طبی تحقیقی فلاحی ادارے ’ویلکم ٹرسٹ‘ کے نئے سربراہ پروفیسر جرمی فیرر کا کہنا ہے کہ یہ ’درحقیقت ایک عالمی مسئلہ ہے۔‘

مستقبل کی اینٹی بائیوٹکس غاروں سے آئیں گی؟

عہدہ سنبھالنے کے بعد بی بی سی ریڈیو 4 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو ’اینٹی بائیوٹکس کا سنہری دور ختم ہو سکتا ہے۔‘

ان کا یہ بیان برطانیہ کی چیف میڈیکل آفیسر ڈیم سیلی ڈیوس کے بیان کی تائید کرتا ہے، جنھوں نے گذشتہ برس کہا تھا کہ ’اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت ایک ٹائم بم کی طرح ہے۔‘

انھوں نے اس خطرے کو دہشت گردی کے برابر کا خطرہ قرار دینے کو کہا تھا۔

جی ایٹ ممالک کے وزرائے سائنس نے لندن میں جون 2013 میں ہونے والے ایک اجلاس میں ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے انفیکشنز کے مسئلہ پر بات چیت کی۔

سنہ 1998 میں ایوان بالا میں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا: ’اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مدافعت سے لاحق خطرات انسانیت کو اینٹی بائیوٹکس سے قبل کے دور میں لے جا رہے ہیں۔‘

ہم میں سے بیشتر لوگ اینٹی بائیوٹکس کے دور میں پیدا ہوئے ہیں اس سے لیے یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ یہ بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کے مسئلے کا مستقل حل ہیں۔

پینیسلین 1928 میں دریافت ہوئی تھی لیکن اس کا وسیع تر استعمال 1950 کی دہائی میں ہی شروع ہوا تھا۔ جہاں اینٹی بائیوٹکس ایک صدی سے بھی کم عرصے سے زیرِ استعمال ہیں وہیں امراض انسانیت سے بھی قدیم ہیں اور مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بیکٹریا والے دو بڑے انفیکشنز اس مسئلے کی مثال ہیں۔

دنیا بھر میں تپ دق کی دواؤں کے خلاف مزاحمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لندن میں ڈاکٹروں کے مطابق تپ دق یعنی ٹی بی کے خلاف مزاحمت کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جن کے علاج میں دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔

یہ خبر اتنی بری نہیں تاہم بعض پریشانیاں اس سے کہیں بدتر ہیں۔ پانچ سال قبل میں نے جنوبی افریقہ سے خبر دی تھی کہ وہاں دواؤں کے خلاف مدافعت انتہائی حد تک بڑھ گئی ہے۔

عوامی سطح پر لاحق طبی خطرات راتوں رات نہیں پھیلتے ان کے لیے تنبیہی علامتیں طویل عرصے سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ جنسی طور پر منتقل ہونے والے مرض سوزاک کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اب اس کا علاج مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

پروفیسر فیرر کا کہنا ہے کہ ہم اینٹی بائیوٹکس کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں اور اس حوالے مزید تحقیق میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں اس مسئلے پر آئندہ مئی کو بحث کی جائے گی۔

اسی بارے میں