بلیک ہول کے نایاب نظارے کی تیاریاں

Image caption بلیک ہولز کی کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان سے کوئی چیز، حتیٰ کہ روشنی بھی باہر نہیں نکل پاتی

ماہرینِ فلکیات ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود پراسرار بلیک ہول سے اس کی جانب بڑھتے ہوئے گیس کے بادل سے تصادم کے منتظر ہیں۔

یہ اس بلیک ہول ’سیجی ٹیریئس اے‘ کا اب تک کا بہترین نظارہ ہو گا۔

اگر یہ بلیک ہول اپنی جانب بڑھنے والے گیس کے بڑے بادل کو ہڑپ کر لیتا ہے تو اس موقع پر آتش بازی جیسا سماں ہو گا۔

امریکی ماہرینِ فلکیات کی سوسائٹی کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصادم رواں برس موسمِ بہار میں متوقع ہے۔ خلائی اجسام پر نظر رکھنے والے شائقین یہ منظر ایک ویب سائٹ پر دیکھ سکیں گے۔

لاس اینجیلس میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے لیو میئر کا کہنا ہے کہ ’یہ کئی سو برسوں میں ہمارے بلیک ہول کی سب سے بڑی خوراک ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس موقعے پر شاندار آتش بازی جیسا سماں ہو سکتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سب یہ دیکھیں۔‘

گیس کے بادل اور بلیک ہول کا تصادم ماہرینِ فلکیات کو کائنات کے ایک بڑے معمے کے انوکھے نظارے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ بلیک ہولز کی کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہاں سے روشنی بھی باہر نہیں نکل پاتی۔ ان کا مشاہدہ صرف باالواسطہ طور پر صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب ان میں گم ہوتے ہوئے اجسام سے تابکاری کی شعائیں نکلتی ہیں۔

گیس کے اس بڑے بادل کو جی ٹو کا نام دیا گیا ہے، اور اس کی کمیت زمین سے تین گنا بڑا ہے۔ اسے پہلی باہر 2011 میں ہماری کہکشاں میں واقع سیجی ٹیریئس اے بلیک ہول کی جانب بڑھتے دیکھا گیا تھا۔

ان دونوں کا تصادم اب چند ماہ دور ہے۔ اگر گیس کا یہ بادل بلیک ہول کے قریب پہنچتا ہے تو یہ اتنا گرم ہو جائے گا کہ اس سے ایکس ریز خارج ہوں گی جو بلیک ہول کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماہرینِ فلکیات اس بادل کی حرکت پر امریکی ریاست ہوائی میں واقع رصدگاہ سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے دیکھا ہے کہ بلیک ہول کی کششِ ثقل کی وجہ سے اب بادل ’سپگیٹی کی مانند کھنچ گیا ہے۔‘

جہاں ’کیک‘ نامی رصد گاہ اس بادل پر نظر جمائے ہوئے ہے، وہیں امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایکس رے خلائی دوربین ’سوئفٹ‘ کی توجہ بلیک ہول پر مرکوز ہے تاکہ اس تصادم کی جھلکیاں عکس بند کی جا سکیں۔

سوئفٹ کی مرکزی محقق نیتھیلی ڈیگینار نے کہ: ’ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے کہ ہو کیا رہا ہے کیونکہ یہ بہت نایاب چیز ہے۔‘

سیگیٹیریئس اے نامی بلیک ہول ہماری کہکشاں ملکی وے کے سب سے اندرونی حصے میں 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

زمین سے دیکھا جائے تو یہ موسمِ گرما میں آسمان پر جنوب کی جانب سیجی ٹیریئس اور سکارپیئس نامی ستاروں کے برجوں کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، بلیک ہول ویسے بھی کالے ہونے کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتے، لیکن یہ بلیک ہول ویسے بھی بہت تاریک ہے۔ یہ دیگر ایسے اجسام سے ایک ارب گنا مدھم ہے اور یہی چیز اسے پراسرار بناتی ہے۔

ڈاکٹر میئر کے مطابق ’فی الوقت اسے دیکھنا بالکل آسان نہیں لیکن اگر گیس کا بادل اس کی کمیت میں اچانک اضافہ کرتا ہے تو آپ کو آتش بازی دکھائی دے سکتی ہے۔‘

یہ تصادم کتنا ڈرامائی ہو سکتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ گیس کے بادل کے اندر کیا ہے۔

اگر اس میں زیادہ ہائیڈروجن گیس ہے تو جب تک بلیک ہول اس بادل کو نگلتا رہے گا، آنے والے کئی برسوں میں ایکس ریز چمکتی رہیں گی۔

اس کے علاوہ ایک اور امکان یہ ہے کہ اس بادل میں کوئی عمر رسیدہ ستارہ موجود ہو اور اگر ایسا ہوا تو پھر ’آتش بازی‘ کی امیدیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔

اس صورت میں ممکن ہے کہ بلیک ہول بادل کا کچھ حصہ ہڑپ کرے اور ستارہ پھسل کر اس کی کششِ ثقل کی حد سے دور چلا جائے۔

یونیورسٹی آف مشی گن کے جان ملر کا کہنا ہے کہ ’میں بہت خوش ہوں گا اگر سیجی ٹیریئس اے اچانک دس ہزار گنا چمک دار ہو جائے۔ تاہم ممکن ہے کہ وہ اتنا ردعمل ظاہر نہ کرے، ایک ایسے گھوڑے کی مانند جسے آپ تالاب پر لا تو سکتے ہیں پانی پینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

ڈاکٹر میئر کے مطابق: ’آتش بازی‘ ہو گی یا نہیں، اس کے لیے تو ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ ابھی کوئی بھی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا۔‘

اسی بارے میں