کافی پینے سے یادداشت تیز ہو جاتی ہے: نئی تحقیق

Image caption اس تحقیق میں پتہ چلا کہ ایسے افراد جنھوں نے کیفین کی گولیاں لیں، انھوں نے یادداشت کے ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی دکھائی

امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق سے اس بات کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں کہ ہمیں ایک دن شاید اپنی یاداشت کو بہتر کرنے اور جاگنے کے لیے کیفین پر انحصار کرنا پڑے گا۔

یہ تحقیق نیچر نیوروسائنس جریدے میں شائع ہوئی اور اس میں 160 افراد کی یاداشت کو 24 گھنٹوں میں ٹیسٹ کیا گیا۔

اس تحقیق میں پتہ چلا کہ ایسے افراد جنھوں نے کیفین کی گولیاں لیں انھوں نے یادداشت کے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی، بہ نسبت ان افراد کہ جنھوں نے بغیر کیفین والی گولیاں لی تھیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کیفین کے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں جیسا کہ گھبراہٹ اور پریشانی۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں ایسے افراد شامل تھے جو عموماً کیفین پر مبنی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ان افراد کے جسم میں کیفین کی بنیادی سطح کے جائزے کے لیے تھوک کے نمونے حاصل کیے گئے، اور پھر انھیں چند تصاویر دیکھنے کے لیے کہا گیا۔

Image caption کافی پینے کے حوالے سے ماہرین نے اعتدال پر زور دیا ہے کیونکہ ایک حد کے بعد اس کے منفی اثرات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں

اس کے پانچ منٹ بعد ان شرکا کے نصف کو 200 ملی گرام کی کیفین کی گولیاں دی گئیں۔ یہ وہ مقدار ہے جو کافی کے ایک بڑے کپ میں موجود کیفین کے برابر ہوتی ہے۔ آدھے شرکا کو ایسی گولی دی گئی جو شکل میں پہلی گولی جیسی تھیں لیکن اس کے اندر کوئی دوا موجود نہیں تھی۔

اس کے ایک، تین اور 24 گھنٹے کے بعد ان افراد کے تھوک کے نمونے حاصل کیے گئے۔ اگلے دن دونوں گروپوں سے گذشتہ دن کی تصاویر کے بارے میں سوال کیے گئے۔

24 گھنٹے بظاہر بہت لمبا عرصہ لگتا ہے، مگر سب سے زیادہ بھولنے کا عمل کسی چیز کے علم میں آنے کے ابتدائی چند گھنٹوں بعد پیش آتا ہے۔

ان لوگوں کو ملی جلی تصاویر دکھائی گئی تھیں، جن میں سے کچھ گذشتہ دن کی تصاویر تھیں، اور کچھ ملتی جلتی مگر ہوبہو نہ لگنے والی تصاویر تھیں۔ ملتی جلتی تصاویر میں فرق کرنے کی صلاحیت کو یادداشت کی بنیادی اہلیت سمجھا جاتا ہے۔

کیفین کی گولیاں لینے والے افراد دوسروں کی نسبت بہتر طریقے سے ان تصاویر میں فرق بتانے میں کامیاب ہوئے۔

Image caption ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کیفین کے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں جیسا کہ گھبراہٹ اور پریشانی

تحقیق کرنے والی ٹیم اب کیفین کے اثر کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ’ہپوکیمس‘ یعنی دماغ کے یادداشت کے مرکز میں کیا ہوتا ہے۔

تحقیق کار پروفیسر مائیکل یاسا کے مطابق ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ بہت سے کافی پینا شروع کر دیں یا کیفین کی گولیاں کھانی شروع کر دیں۔

تاہم تحقیق کے مطابق 200 ملی گرام کیفین یا ایک کافی کا بڑا کپ ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے جو باقاعدگی سے کافی نہیں پیتے۔

دوسری جانب محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ مقدار میں کیفین کا زیادہ فائدہ ہو گا۔

پروفیسر یاسا کے مطابق: ’اگر آپ باقاعدگی سے کافی پیتے ہیں تو یہ مقدار بدل سکتی ہے اور یقیناً اس کے صحت پر مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے۔‘

یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے سکول آف سائیکالوجی کے ڈاکٹر اشوک جانسری کے مطابق کیفین یادداشت کو تیز ضرور کرتی ہے مگر اسے بہتر نہیں بناتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر آپ کافی پیتے ہیں تو آپ اس کی مقدار بہت زیادہ بڑھا دیں اور اگر آپ نہیں پیتے تو صرف یادداشت بہتر بنانے کے لیے اسے پینا شروع کر دیں، کیونکہ ایک حد کے بعد اس کے منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں