انٹارکٹکا کا بڑا گلیشیئر پگھل رہا ہے: تحقیق

انٹارکٹکا فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption پی آئی جی کا حجم ایک لاکھ ساٹھ ہزار مربع فٹ یعنی برطانیہ کے کُل رقبے سے تین گنا بڑا ہے

سائنسدانوں کی تین ٹیموں کا کہنا ہے کہ انٹارکٹکا کے بہت بڑے پائن آئی لینڈگلیشیئر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

سائنسدانوں کی تین ٹیموں نے اس گلیشیئر پر تحقیق کی اور تینوں ٹیمیں اسی نتیجے پر پہنچیں۔

ان ٹیموں نے نیچر کلائمیٹ چینج (Nature Climate Change) نامی جرنل میں لکھا ہے کہ اگر اس خطے میں بے حد سردی بھی ہو جائے تو پھر بھی اس گلیشیئر میں کمی ہونا ختم نہیں ہو گا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پائن آئی لینڈگلیشیئر (پی آئی جی) کے پگھلنے کی وجہ سے عالمی سمندری سطح میں اضافہ ہو گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس گلیشییر کے پگھلنے کے باعث اگلے بیس سالوں میں سمندر کی سطح ساڑھے تین سے دس ملی میٹر تک بلند ہو گی۔

برطانوی انٹارکٹک سروے کے ڈاکٹر ہلمر کا کہنا ہے ’یہ گلیشیئر ایک گیند کی مانند ہے۔ اس کو لات ماری گئی ہے اور یہ لڑھکتا رہے گا۔‘

پی آئی جی کا حجم ایک لاکھ ساٹھ ہزار مربع فٹ یعنی برطانیہ کے کُل رقبے سے تین گنا بڑا ہے۔

سیٹیلائٹ اور فضائی پیمائش کے مطابق گلیشیئر میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کا وہ حصہ جو سمندر کے ساتھ لگتا ہے وہ بھی دس کلومیٹر پیچھے ہو گیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق گلیشیئر میں کمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث نہیں ہو رہی بلکہ زیرِ سمندر گرم لہروں کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ یہ گرم زیر سمندر لہریں گلیشیئر کے اس حصے کو کاٹ رہی ہیں جو زیر آب ہے۔

برطانوی انٹارکٹک سروے کے ڈاکٹر ہلمر نے یہ تحقیق برطانوی، فرانس اور چین کے سائنسدانوں کے ہمراہ کی ہے۔

ڈاکٹر ہلمر نے بی بی سی کو بتایا ’اگر آپ گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار میں کمی بھی لے آئیں لیکن آپ اس کو روک نہیں سکتے۔ ہم نے تجربات میں اس گلیشیئر کو پگھلنے دیا اور اس کے بعد پگھلنے کی رفتار کو آہستہ کیا۔ لیکن اس کے باوجود اس کا وہ حصہ جو سمندر سے لگتا ہے وہ پگھلتا رہا۔‘

تحقیق کے مطابق انٹارکٹکا کے جس حصے میں پی آئی جی اور دیگر بڑے گلیشیئر موجود ہیں وہاں پر سالانہ ڈیڑھ سو کیوبک کلومیٹر برف سمندر میں جا رہی ہے۔

اسی بارے میں