ایپل والدین کو سوا تین کروڑ ڈالر ادا کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یہ سمجھوتہ صرف ان صارفین کے لیے ہے جنھوں نے ایپل کے امریکی ایپ سٹور سے خریداری کی

امریکہ کے وفاقی تجارتی کمیشن سے طے پانے والے سمجھوتے کے تحت کمپیوٹر اور موبائل فون بنانے والے امریکی کمپنی ایپل اپنے صارفین کو کم از کم تین کروڑ 25 لاکھ ڈالر واپس کرے گی۔

یہ رقم ان ایپلیکیشنز کی مد میں واپس کی جائے گی جنھیں بچوں نے اپنے والدین کی اجازت کے بغیر اپیل سٹور سے خریدا تھا۔

سمجھوتے کے تحت ایپل اپنے ’بلنگ‘ کے نظام میں بھی تبدیلی کرے گا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی صارف سے رقم لینے سے قبل اس کی مرضی معلوم کی جائے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ اس نے طویل قانونی جنگ پر سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دی ہے۔

وفاقی تجارتی کمیشن کی چیئرپرسن ایڈتھ رمیرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ سمجھوتہ ایپل کی غیرمنصفانہ بلنگ سے متاثر ہونے والے صارفین کی فتح ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا کے لیے ایک اشارہ ہے کہ چاہے وہ موبائل کی دنیا میں کاروبار کریں یا کسی شاپنگ مال میں خریدار کے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صارفین سے ان چیزوں کی خریداری کے لیے رقم نہیں لی جا سکتی جس کی انھوں نے اجازت نہ دی ہو۔

تجارتی کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ ایپل کو ایسی دسیوں ہزاروں شکایات ملی ہیں جن میں بچوں نے بنا اجازت ایپلیکیشنز خریدی تھیں۔ ایک خاتون نے کہا تھا کہ اس کی بیٹی نے ایک ایپ پر 26 سو ڈالر خرچ کر ڈالے۔

یہ سمجھوتہ صرف ان صارفین کے لیے ہے جنھوں نے ایپل کے امریکی ایپ سٹور سے خریداری کی لیکن ٹیکنالوجی کے لیے بی بی سی کے مدیر روری جونز کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایپل برطانیہ میں ایسی شکایات پر والدین کو رقم واپس کرتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایپل کے ایپ سٹور میں بچوں کی بہت سی گیمز بھی موجود ہیں جنھیں کھیلتے ہوئے صارف کو مختلف خریداریاں کرنا پڑتی ہیں اور اس کے لیے اسے 99 سینٹ سے 100 ڈالر تک کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں