’آف لائن کمپیوٹر بھی جاسوسی سے محفوظ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption توقع ہے کہ جمعے کو این ایس اے کی کارروائیوں کو محدود کرنے سے متعلق اقدامات کا اعلان کیا جائے گا

امریکی اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے امریکہ کی قومی سلامتی کی ایجنسی (این ایس اے) نے خفیہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کمپیوٹروں کی بھی جاسوسی کی جن کا انٹرنیٹ کے ساتھ رابطہ نہیں تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں ان دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ کمپیوٹروں میں ایسے چھوٹے آلات لگائے گئے جو برقی لہریں خارج کرتے ہیں۔

اخبار کے مطابق ان آلات کے اہداف میں چینی اور روسی فوج کے علاوہ منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ بھی شامل تھے۔

توقع ہے کہ جمعے کو امریکی صدر قومی سلامتی کی ایجنسی کی کارروائیوں سے متعلق خدشات پر خطاب کریں گے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں ایسے ذرائع کا حوالہ دیا ہے جنھیں براک اوباما کے منصوبے کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق اکٹھے کیے جانے والے ٹیلیفون ڈیٹا کی نگرانی محدود کرنے کے علاوہ ایک ایسے شخص کو نامزد کیا جائے گا جو انٹیلی جنس کی خفیہ میٹنگز میں عوام کے خیالات کے نمائندگی کرے گا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک نگرانی پر سخت کنٹرول نافذ کیے جائیں گے جس کی وجہ ان سیاسی اختلافات کو کم کرنا ہے جو عالمی لیڈروں کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کیے جانے کی خبروں کے بعد پیدا ہوگئے تھے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق این ایس اے نے اپنے اہداف کے کمپیوٹروں میں چھوٹے سرکٹ بورڈ اور یو ایس بی کارڈ لگا کر برقی لہروں کی مدد سے ڈیٹا حاصل کیا جس میں کسی کمپیوٹر کا کسی نیٹ ورک پر ہونا ضروری نہیں تھا۔

یہ اہم انکشاف اس خیال کی نفی کرتا ہے کہ کسی مشین کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کا آسان اور موثر طریقہ یہ ہے کہ اسے انٹرنیٹ سے علیحدہ کر دیا جائے۔

یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں ہے لیکن امریکی ادارے کی جانب سے اس کے استعمال کے بارے میں اس سے قبل علم نہیں تھا۔

نیورک ٹائمز کو دیے گئے ایک بیان میں این ایس اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس طریقے کے ذریعے امریکہ میں کسی کو ہدف نہیں بنایا گیا۔

انھوں نے کہا: ’این ایس ای کی کارروائیوں کے ذریعے صرف انٹیلی جنس کی ضروریات کے تحت بیرون ملک اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

’ہم بیرون ملک اپنی انٹیلی جنس کو امریکی کمپنیوں کے مفاد میں دیگر ممالک کے تجارتی راز حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔‘

اسی بارے میں