’مزاحیہ فنکاروں میں ذہنی مریضوں کی خصوصیات‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بعض کمیڈیئنز کے لیے یہ ایک قسم کا نجی طریقۂ علاج ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مزاحیہ فن کاروں یعنی کمیڈیئنز کی شخصیت ان لوگوں سے زیادہ مماثل ہوتی ہے جنھیں ذہنی خلل ہوتا ہے۔

وہ دوسرے تخلیقی صلاحیتیں کے حامل لوگوں سے حد درجہ منسلک ہوتے ہیں۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ کمیڈیئنز لوگوں کی اس مخصوص جبلت کے پیمانے پر زیادہ پورے اترتے ہیں جسے ذہنی امراض سے جوڑا جاتا ہے۔

عام طور پر ان میں داخلی اور خارجی دونوں طرح کے میلان اپنی اعلیٰ سطح پر ہوتے ہیں۔

تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ مزاح پیدا کرنے کے لیے مزاحیہ فن کاروں کو ان جبلتوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ذہنی مریضوں میں پائی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ فن اور علوم میں تخلیقی صلاحیت کا رشتہ ذہنی صحت کے مسائل سے وابستہ رہا ہے، اور اس بات کا احساس لوگوں نے بہت پہلے کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم ابھی تک اس معاملے میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی کہ آیا کمیڈیئنز کا ذہنی امراض سے کوئی تعلق ہے۔

آکسفورڈ اور برک شائر ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے تحقیق کاروں نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے 523 کمیڈیئنز (404 مردوں اور 119 خواتین) کا مطالعہ کیا۔

انھیں ایک آن لائن سوال نامہ حل کرنے کے لیے کہا گیا۔ یہ سوالات صحت مند لوگوں کے ذہنی میلان کو جانچنے کے لیے ترتیب دیے گئے تھے۔

ان میں جن چار جہات کی جانچ کی گئی ان میں مندرجہ ذیل جہات شامل تھیں:

  • غیر معمولی تجربات و مشاہدات (کیا وہ ٹیلی پیتھی اور غیر مرئی چیزوں میں یقین رکھتے ہیں)
  • ذہنی انتشار (ذہنی طور پر منتشر ہو جانا اور کسی چیز پر ذہن کو مرتکز کرنے میں مشکلات)
  • داخلی مردہ دلی (سماجی اور طبعی تلذذ کی کمی، یہاں تک کہ قربت سے بچنے کی کوشش)
  • اضطراری کیفیت (اضطرار اور غیر سماجی سلوک کی جانب رغبت)

انھی سوالات کو 364 اداکاروں نے بھی مکمل کیا اور وہ بھی تخلیق کے اسی پرفارمنگ میدان سے آتے ہیں ان کے علاوہ غیر تخلیقی شعبے میں کام کرنے والے 831 دیگر افراد نے بھی اسے پورا کیا۔

تاہم تحقیق کاروں کو یہ معلوم ہوا کہ کمیڈیئنز نے دوسروں کے مقابلے ان چاروں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہر کیا۔ بطور خاص انھوں نے داخلی اور خارجی جبلتوں سے منسلک سوالات میں زیادہ نمبر حاصل کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption کامیڈی ایک ایسا فن ہے جس کے لیے انتہائی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے

اداکاروں نے عام گروہ کے مقابلے تین شعبوں میں زیادہ نمبر حاصل کیے لیکن داخلی کیفیت میں وہ ان سے کم سکور کر سکے۔

تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ شخصیت کی یہ عجیب ساخت کمیڈیئنز کی تفریح فراہم کرنے کی صلاحیت کی وضاحت میں معاون ہو سکتی ہے۔

تجرباتی نفسیات کے شعبے کے پروفیسر گورڈن کلیرج کا کہنا ہے کہ ’مزاح پیدا کرنے کے لیے جس تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے وہ بہت حد تک ان سے ملتی ہے جو شیزوفرینیا اور مالیخولیا کے مریضوں میں پائی جاتی ہے۔‘

پروفیسر کلارج نے کہا کہ وہ معمول سے ہٹ کر سوچتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا: ’کمیڈیئنز عام طور پر علیحدہ رہنے والے، داخلیت پسند اور دوسروں پر نہ کھلنے والے لوگ ہوتے ہیں اور کامیڈی ان کے لیے اظہار کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہ ایک قسم کا نجی طریقۂ علاج ہے۔‘

لیکن اس کے برخلاف نفسیاتی یا ذہنی مریض مزاح کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں