ستاروں پر ڈلنے لگی ہے کمند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP ESA C.CARREAU
Image caption خلائی مشن دنیا سے 80 کروڑ کلو میل دور ہے

یورپ کی گذشتہ ایک دہائی سے ایک ربوٹ کو کسی ’کامٹ‘ یا دمدار ستارے پر اتارنے کے لیے ’روزیٹا‘ کے نام سے جاری کوششوں نے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

اس خلائی مشن کو جو گذشتہ دو برس سے خواب کی سی کیفیت میں خلاء میں تھا گرین وچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دس بجے گہری نیند سے بیدار ہونا ہے۔

بیدار ہونے کے بعد یہ اپنا پہلا پیغام ’میں جاگ گیا ہوں‘ زمین کو ارسال کرے گا جس سے یہ تصدیق ہو جائے گی کہ اس نے اپنا مشن شروع کر دیا ہے۔

روزیٹا نامی یہ خلائی مشن دم دار ستارے یا کامٹ ’67 پی/ چریمو - گیراسیمینکو‘ کے پاس اگست کے مہینے میں پہنچ جائے گا۔ ایک چھوٹا روبوٹ جو روزیٹا سے جڑا ہوا ہے نومبر میں اس سے الگ ہو کر دمدار ستارے پر اتر جائے گا۔

روزیٹا زمین سے اسی کروڑ کلو میٹر دور زحل کے قریب مشتری کے بیرونی مدار کے قریب نیند سے بیدار ہو رہا ہے۔

جرمنی میں یورپین سپیس ایجنسی (ای ایس اے) کے آپریشن سینٹر میں موجود نگرانوں کو معلوم نہیں ہے کہ پیر کو کس وقت ایک اہم ترین رابطہ ہوگا لیکن انھیں امید ہے کہ ان کے کونسولز یا کمپیوٹرز گرین وچ کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ کے درمیان روشن ہوں گے۔

روزیٹا خلائی جہاز کے آپریشن منیجر اندرے اوکامازو کا کہنا ہے کہ یہ صرف ابتدائی سگنل ہوگا اور اس موقع پر کوئی ڈیٹا خلائی جہاز سے موصول نہیں ہونا۔

تصویر کے کاپی رائٹ video
Image caption یہ خلاف مشن دو سال پہلے زمین سے روانہ کیا گیا تھا

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک طاقتور فریکوئنسی ہوگی اور اگر آپ اسے کسی آواز میں تبدیل کریں تو یہ ایک مستقل ’بیپ‘ یا تیز سی آواز ہو گی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پیغام میں کوئی معلومات نہیں ہوں گی لیکن اس رابطے سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ اس خلائی مشن نے پوری طرح کام کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ ایک خود کار طریقے سے ہونا ہے جس کے بعد اس کا کنٹرول زمین سے کیا جانا ممکن ہو جائے گا۔

روزیٹا یہ اہم پیغام بھیجنے سے قبل ایک پہلے سے بنائے گئے پروگرام کے تحت کئی کام کرے گا اور ان تمام کاموں کے لیے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔

ان کاموں میں خلائی مشن کے نیویگیشن آلات کو گرم کرنا اور خلا میں زمین کی سمت کا تعین کر کے اپنے اینٹینوں کا رخ اس طرف موڑنا شامل ہے۔

ابتدائی رابطہ امریکی خلائی ایجنسی کی کیلیفورنیہ میں نصب ستر میٹر قطر کی گولڈ سٹون ریڈیو ڈش کے ذریعے ہوگا۔

اگر پیر کو یہ سگنل نہیں ملتا تو اس مشن میں زمین سے کسی قسم کی کوئی مداخلت منگل کی صبح تک نہیں کی جائے گی۔

جرمنی کے شہر ڈرمسٹڈ میں موجود ماہرین روزیٹا کو ایک کمانڈ یا پیغام بھیج سکتے ہیں جو اس کو جاگنے کے لیے ایک جھٹکا دے سکتا ہے لیکن پہلے کوشش یہ ہے کہ یہ اپنے خود کار نظام کے تحت خود بخود ہی بیدار ہو جائے۔

روزیٹا کو سنہ 2011 میں اس وقت سلا دیا گیا تھا یا اس کے تمام نظام بند کر دیے گئے تھے جب یہ اپنے مقرر کردہ راستے پر سورج سے اتنا دور ہو گیا تھا کہ اس کے سورج کی روشنی سے توانائی پیدا کرنے والے سیلز نے سورج سے دوری کی وجہ سے توانائی پیدا کرنا انتہائی کم کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AIRBUS
Image caption مشن دم دار ستار کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا

روزیٹا کو سنہ 2004 میں زمین سے چھوڑا گیا تھا۔ مختلف سیاروں کے قریب سے گذرتے ہوئے یہ پہلے ہی کافی گراں قدر معلومات بھیج چکا ہے۔

ایک مرتبہ اس کی حالت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کو کنٹرول کرنے والے ماہرین اسے اپنے ہدف کے قریب پہنچانے کے لیے اس کے انجنوں کو چلائیں گے۔

فی الوقت یہ اپنے ہدف 67 پی سے نوے لاکھ کلو میٹر دور ہے اور ستمبر کے وسط تک یہ فاصلہ کم ہو کر 10 کلو میٹر تک رہ جائے گا۔

تین ٹانگوں والے ربوٹ ’پہلے‘ کو نومبر میں دم دار ستارے پر اتارا جائے گا جو ایک انتہائی حیران کن اور ڈرامائی عمل ہو گا۔

روزیٹا کے ربوٹ کا مقصد دم دار ستارے پر سورج کی طرف سفر میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔

دم دار ستارہ جسے ’ڈرٹی سنو بال‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے، نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے وقت کے اجزاء پر مشتمل ستارہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین چار اعشاریہ چھ ارب سال پہلے کے اجزا کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔