انٹارکٹکا: تحقیقی عملہ آسٹریلیا پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہم آسٹریلوی آئس بریکر ارورا اوسٹریلس پر باحفاظت پہنچ گئے ہیں اور ہم چینی ہیلی کاپٹر کے بہت شکر گزار ہیں: مہم کے سربراہ کرس ٹرنی

گذشتہ ماہ انٹارکٹکا میں خراب موسم کے باعث برف میں پھنس جانے والے روسی تحقیقاتی بحری جہاز پر موجود عملے کو آخر کار آسٹریلیا پہنچا دیا گیا ہے۔

انٹارکٹکا کی برف میں پھنسا جہاز، تصاویر

جہاز کو برف کی دبیز چادر سے نکالنے کی متعدد کوششوں میں ناکامی کے بعد 52 سائنس دانوں اور سیاحوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد آسٹریلیا کے ایک جہاز پر پہنچا دیا گیا۔

آرورا آسٹریلیس نامی یہ جہاز اب ہابرٹ کی بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔

تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ بین الاقوامی امدادی کارروائی پر اٹھنے والا خرچ کون ادا کرے گا۔

اس امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے آرورا آسٹریلس کو انٹار کٹکا میں آسٹریلیا کی مستقل بیس کیسی سٹیشن کے لیے معمول کا رسد کا مشن معطل کرنا پڑا۔

آسٹریلین انٹارکٹک ڈویژن کا کہنا ہے کہ روسی جہاز کو امدادی کارروائی کا خرچ ادا کرنا ہوگا۔

تحقیقی مشن کے سربراہ کرس ٹرنی کا کہنا ہے کہ وکلا اور ضمانت کار لاگت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے مدد کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہم اپنے ساتھیوں سے معذرت خواہ ہیں کہ اس امدادی مشن میں حصہ لینے کی وجہ سے ان کا کام تاخیر کا شکار ہوا۔ لیکن انٹارکٹکا کے ایک تجربہ کار سائنس دان جانتے ہیں کہ یہ خطرہ قدرتی ہے۔‘

جس ہیلی کاپٹر نے ان افراد کو محفوظ مقام پر پہنچایا ہے وہ ہیلی کاپٹر چینی آئس بریکر کا تھا۔

امدادی کارکنان کے مطابق پھنسے ہوئے جہاز پر جانے اور وہاں سے مسافروں کو اٹھا کر آسٹریلوی جہاز تک پہنچانے میں 45 منٹ لگے۔

اکیڈیمیشن شوکالسکیے پر 74 افراد موجود تھے جن میں سائنس دان اور سیاح شامل تھے۔ یہ جہاز کرسمس سے ایک رات قبل سے برف میں پھنسا ہوا تھا۔ اس سے قبل اب تک برف توڑنے والے تین بحری جہاز اس کی مدد کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن یہ تینوں مہمات ناکام رہی تھیں۔

اسی بارے میں