سائبر دنیا میں انتہا پسند تنظیمیں سرگرم

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption دائیں بازو کے ہزاروں انتہاپسند اور عسکریت پسند فیس بک گروپ، ٹوئٹر اکاؤنٹ، یو ٹیوب چینلز اور ویب سائٹس کھولے بیٹھے ہیں: رپورٹ

پاکستان میں انٹرنیٹ کے معاملات پر نظر رکھنے والی تنظیم ’بائٹس فار آل‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر دنیا میں انتہا پسند تنظیموں کا بڑھتا ہوا اثر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور حکام اس معاملے سے پہلوتہی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق بہت سی ایسی شدت پسند تنظیمیں جنھیں پاکستانی حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے یا ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا کھلے عام پرچار کرنے میں مصروف ہیں اور وہ اس سلسلے میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مذہبی انتہا پسند گروپ آن لائن سپیس کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور حزب التحریر اور ان جیسی دیگر تنظیمیں سوشل نیٹ ورکس اور ویڈیو کی مشترکہ سائٹس کو استعمال کر کے نفرتیں پھیلانے اور اپنے ہم خیال لوگوں کو بھرتی کرنے کا کام کر رہی ہیں۔‘

اسی رپورٹ کے مطابق ’دائیں بازو کے ہزاروں انتہا پسند اور عسکریت پسند فیس بک گروپ، ٹوئٹر اکاؤنٹ، یو ٹیوب چینلز اور ویب سائٹس کھولے بیٹھے ہیں۔‘

رپورٹ کے مصنف جہانزیب حق کہتے ہیں کہ بہت سی پابندیوں اور بلاکنگ کے باوجود اگر یہ انتہا پسند گروپ آن لائن مصروف کار رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو حکومت میں سیاسی ہمت ہی نہیں کہ ایسے انتہا پسند لوگوں پر قابو پا سکیں یا پھر تشویش کن بات ہے کہ شاید سیاسی طور پر حکومت اور شہری بھی ایسے انتہا پسند پروپیگنڈے کے اندر سے حامی ہیں۔

اگرچہ ایسی ویب سائٹس کی نگرانی کر کے انتہا پسندوں کے عزائم اور حرکات پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے لیکن ابھی تک اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا پاکستان میں یہ کام کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ترجمان یاسر قادر نے کہا کہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ ایسا کام پاکستان میں ہو رہا ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی ویب سائٹس کی نگرانی ان کے دائرۂ کار میں نہیں آتی۔

پاکستان میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے معاملات پر کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر ثنا سلیم کہتی ہیں: ’میرے خیال میں یہ سب کچھ حکومت کی پالیسی کی بنا پر ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ سے اس کا تعلق نہیں۔حکومت کی دلچسپی صرف ’مورل پولیسنگ‘ میں ہے۔‘

سائبر سیکیورٹی پر کام کرنے والی ایک نجی تنظیم پاکستان انفارمیشن سوسائٹی ایسوسی ایشن کے صدر اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے سابق سربراہ عمار جعفری کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً تین سو انتہا پسند ویب سائٹس کی شناخت کی گئی ہے جن میں سے 95 فیصد امریکہ اور چین جیسے ممالک میں رجسٹر کروائی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ : ’شروع شروع میں حکومت نے انتہاپسندی کا پرچار کرنے والی کچھ ایسی ویب سائٹس کو بند بھی کیا لیکن اب ان میں اس قدر زیادہ اضافہ ہو چکا ہے کہ سب کو بند کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔‘

پاکستان میں انٹرنیٹ سائٹس کو جانچنے اور انھیں بلاک کرنے کے لیے ایک کمیٹی تو موجود ہے۔ ’بائٹس فار آل‘ کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹس کے جانچنے کی یہ بین الوزارتی کمیٹی 2006 میں تشکیل دی گئی تھی اور یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ماتحت ہے

وزارت کے ترجمان یاسر قادر نے بتایا کہ کوئی بھی ویب سائٹ بلاک کرنے کا فیصلہ کمیٹی کے ذریعے ہوتا ہے اور ساری انتہا پسند سائٹس بلاک کرنا ناممکن ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی اے میں ایک ٹیم تیار کی گئی ہے جو قابل اعتراض مواد کو بلاک کرتی ہے اور پی ٹی اے کا شکایت سیل بھی ہے جہاں لوگ قابل اعتراض ویب سائٹس کے بارے میں اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

بائٹس فار آل کی رپورٹ کے مطابق اس کمیٹی کے ذریعے سائبر سپیس پر حکومت اور فوج کا کنٹرول مضبوط ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے کی ذمہ داری انٹرنیٹ کو ترتیب دینا ہے اور ایف آئی اے کی ذمہ داری سائبر جرائم کی تحقیق ہے لیکن ان دونوں اداروں کا انحصار حکومت اور فوج پر ہے۔

رپورٹ میں جن نتائج کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے مطابق انٹرنیٹ پر بلاکنگ سے حکومت اور فوج اپنے مقاصد کے لیے تو فائدہ اٹھاتی ہے جب کہ شدت پسند مذہبی گروپ بلا روک ٹوک انٹرنیٹ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں