چینی خلائی گاڑی مشکلات کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چینی لوک کہانیوں کا خرگوش بالآخر چاند پر پہنچ ہی گیا

چین کے ریاستی میڈیا کے مطابق ملک کے خلائی پروگرام کی چاند گاڑی کو ’فنی خرابی‘ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ چاند کی پیچیدہ سطح اور ماحول کی وجہ سے تجزیاتی گاڑی کو مسائل کا شکار ہو گئی ہے۔

چاند گاڑی گذشتہ سال دسمبر میں چاند پر ’چینگ 3‘ نامی مشن کے تحت پہنچی تھی اور چاند پر یہ 1976 کے بعد پہلی ’سافٹ لینڈنگ‘ ہے۔

توقع ہے کہ یہ چاند گاڑی تین ماہ تک کام کرے گی۔

اس ماہ کے آغاز میں بیجنگ ایروسپیس کنٹرول سنٹر نے کہا تھا کہ ’جیڈ ریبٹ‘ (سنگِ یشپ کا خرگوش) یا یو تو کے نام سے جانے والی اس چاند گاڑی نے اپنے میکینکل بازو کی مدد سے کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح کا جائزہ لیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب چاند گاڑی پہلے سے طے شدہ وقت پر کچھ دیر کے لیے غیر فعال کی جا رہی تھی۔ ادارے نے مزید تفصیلات دیے بغیر بتایا ہے کہ سائنسدان تکنیکی مسائل کے حل کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق چاند گاڑی کو چاند کی رات کے لیے 14 روز کے لیے غیر فعال کیا جانا تھا، جس دوران گاڑی کو چلانے کے لیے شمسی تونائی موجود نہیں ہوگی۔

بیجنگ سے بی بی سی کی نامہ نگار سیلیا ہیٹن کا کہنا ہے کہ یہ خرابی پہلا موقع ہے کہ چین کے اس مشن میں کوئی ایسا مسئلے آیا ہے جسے منظرِ عام پر لایا گیا ہو۔

اطلاعات کے مطابق اس خرابی کے حوالے سے چینی سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ لوگوں نے حکام کی اس سلسلے میں معلومات منظرِ عام پر فراہم کرنے کو سراہا بھی ہے اور حادثے سے متعلق تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

چین کی سماجی روابط کی ایک ویب سائٹ سینا ویبو پر صارفین نے ہیش ٹیگ ’ہینگ ان دیئر جیڈ ریبٹ‘ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

صارفین نے ایسے کارٹون شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں جن میں چاند پر ایک خرگوش کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خرگوش کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی جا رہی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا: ’چاہے جو بھی ہو، ہمیں جیڈ ریبٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ جب ہماری نسل کے لوگ اپنے بچوں کو کہانیاں سنایا کرے گی تو ہم اعتماد سے کہہ سکیں گے کہ واقعی چاند پر ایک جیڈ ریبٹ موجود ہے۔‘

اسی بارے میں