’سٹم سیلز تیار کرنے کا نیا طریقہ دریافت‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ ٹیکنالوجی سستی، تیز تر اور محفوظ تر ہو سکتی ہے

سٹم سیل پر تحقیقات کرنے والے سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ایک اہم دریافت کی ہے جس سے ہر فرد کے لیے مخصوص ذاتی طب کا دور شروع ہو سکتا ہے۔

جاپان میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سٹم سیلز یعنی خلیے اب خون کے خلیوں کو تیزاب میں ڈبو کر انتہائی تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔

سٹم سیلز کو انسانی جسم کے کسی بھی بافت کی شکل دی جا سکتی ہے اور انہیں امراضِ قلب، چشم اور دماغ کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ ٹیکنالوجی سستی، تیز تر اور محفوظ تر ہو سکتی ہے۔

انسانی جسم اعصابی نظام کے خلیے، جگر کے خلیے یا پٹھوں کے خلیے جیسے مختلف قسم کے خلیوں سے بنا ہوتا ہے اور ہر قسم کے خلیوں کا مخصوص مقصد ہوتا ہے۔

تاہم سٹم سیلز سے کسی قسم کے خلیے بن سکتے ہیں اور انسانی اعضا کی تخلیق کی وجہ سے اب یہ ریسرچ علمِ طب میں تحقیق کا اہم جز ہے۔

عموماً سٹم سیلز جنین سے لیے جاتے ہیں تاہم اس ذریعے سے سٹم سیلز کے حصول کے بارے میں لوگوں کو اخلاقیات کے حوالے سے کافی خدشات ہیں۔ نوبل انعام یافیہ تحقیق نے یہ بھی بتایا تھا کہ جینیاتی طور پر تبدیلی کر کے انسانی جلد کو بھی سٹم سیلز کی تشکیل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم مذکورہ تحقیق کے مطابق خون کے خلیوں کو تیزاب کے ذریعے سٹم سیلز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

جاپان میں ریکن سینٹر فار ڈویلپمنٹ بائی اولوجی کے ڈاکٹر ہاروکو اوبوکاتا کہتی ہیں کہ وہ خلیوں کے اس ماحول میں ردِعمل پر حیران ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سٹم سیلز کسی قسم کے خلیے بن سکتے ہیں اور انسانی اعضا کی تخلیق کی وجہ سے اب یہ ریسرچ علمِ طب میں تحقیق کا اہم جز ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان معلومات سے نہ صرف انسانی اعضا کی دوبارہ تشکیل کے حوالے سے بلکہ سرطان کے علاج کے سلسلے میں جو نئے امکانات سامنے آتے ہیں، وہ بہت دلچسپ ہیں۔‘

اس دریافت کے لیے کی جانی والی تحقیق میں یہ عمل چوہوں کے خون میں کامیاب رہا ہے اور اب انسانی خون پر اس کے تجربے کرنا باقی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں ریجینریٹوو میڈیسن کے پروفیسر کرس مینسن کہتے ہیں کہ اگر انسانی خون میں بھی کامیاب ہوتا ہے تو ہر فرد کے لیے مخصوص ذاتی طب کا دور آ گیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا خیال تھا کہ اے میرے خدا۔۔۔ یہ تو سب بدل دے گا۔ یہ حیران کن اور دلچسپ دریافت ہے۔‘

’یہ ناقابلِ یقین لگتی ہے مگر جتنے ماہرین نے اس کو چیک کیا ہے میرے خیال میں یہ ہو سکتا ہے۔‘

’اگر یہ انسانوں میں بھی اتنا ہی کامیاب ہوتا ہے جتنا چوہوں میں تو سٹم سیلز تیار کرنے کے دیگر طریقوں سے زیادہ سستا، محفوظ تر اور تیز تر طریقہ ہوگا۔‘

اسی بارے میں