ضعیف ترین فلیمنگو زندگی کی جنگ ہارگیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بگلا 1933 میں اس چڑیا گھر میں لایا گیا تھا اور شائقین میں انتہائی مقبول تھا

دنیا میں اپنی نوعیت کا بوڑھا ترین فلیمنگو یعنی لال لَم ٹِنگو 83 سال کی عمر میں آسٹریلیا میں انتقال کر گیا ہے۔

ایڈیلیڈ کے چڑیا گھر میں جمعے کے روز ’گریٹر دی فلیمنگو‘ کے نام سے معروف لال لَم ٹِنگو کو جوڑوں کی تکلیف اور صحت کے حوالے سے دیگر پیچیدگیوں کے باعث ہلاک کر دیا گیا۔

یہ لال لَم ٹِنگو سنہ1933 میں اس چڑیا گھر میں لایا گیا تھا اور شائقین میں انتہائی مقبول تھا۔

فلیمنگو پرندوں کی ان نسلوں میں سے ایک ہے جن کی گردن لمبی ہوتی ہے اور وہ کم گہرائی والے پانی کے ذخیروں میں رہتے ہیں۔ ایسے جانوروں کی خوراک انتہائی مخصوص ہوتی ہے اور قدرتی ماحول میں ان کی عمر قدرے کم ہوتی ہے۔

گریٹر فلیمنگو کی نسل کے فلیمنگو عموماً دیگر فلیمنگو سے حجم میں تھوڑے بڑے ہوتے ہیں اور ان کی خاصیت گلابی چونچ اور سفید پر ہوتے ہیں۔

چھڑیا گھر کے حکام نے بتایا کہ 2008 میں گریٹر کو مقامی نوجوانوں نے کافی مارا تھا تاہم وہ اس حادثے میں بچ گیا تھا۔ حکام کے مطابق چڑیا گھر میں گریٹر مقبول ترین جانور تھا۔

جنوبی آسٹریلیا میں چڑیا گھروں کی منتظمِ اعلٰی ایلین بنسٹیڈ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ گریٹر کو دنیا کا بوڑھا ترین فلیمنگو ماننا جاتا تھا اور آسٹریلیا میں یہ اپنی نسل کا آخری بگلا تھا۔

’البتہ یہ ہمارے لیے انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے، اسے ہلاک کرنا ہی درست راستہ تھا۔ ہم کوئی ایسا علاج نہیں کر سکتے تھے جس سے اس کی صحت یا زندگی بہتر ہو سکتی۔‘

آسٹریلیا میں اب آخری بگلہ گریٹر کا ساتھی 65 سالہ ’چیلی‘ فلیمنگو رہ گیا ہے۔

چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ چیلی پر گہری نظر رکھیں گے اور اس بات کا اندازہ لگائیں گے کہ کہیں گریٹر کی ہلاکت کا اس پر کوئی منفی اثر تو نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ گریٹر کی یاد میں ایک تعزیتی اجمتاع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں