عطیہ کی گئی آنکھوں کے خلیوں سے اندھے پن کا علاج

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption راڈ سیلز آنکھ کے ریٹینا میں روشنی کی شناخت کرتے ہیں

محققین کا کہنا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی آنکھوں کے خلیوں سے اندھے پن کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا ہے انسانی خلیے بعض مکمل اندھے چوہوں میں کسی حد تک بینائی واپس لے آئے۔

یونیورسٹی کال آف لندن کی ایک ٹیم کے مطابق ایسے ہی نتائج انسانوں میں بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں جس کی وجہ سے بینائی سے محروم افراد کی زندگی بہتر ہو جائے گی تاہم وہ کچھ پڑھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔

محققین کے مطابق اس طرز علاج کے لیے انسانوں پر تجربات تین سال میں شروع کیے جائیں گے۔

ماضی میں عطیہ کیے گئے قرنیہ کی مدد سے بینائی کا علاج کیا جاتا رہا ہے تاہم سائنسدانوں کی ٹیم نے آنکھ کی پشت سے ایک مخصوص خلیے کو حاصل کر کے یہ نیا طریقۂ علاج دریافت کیا ہے۔

اس علاج سے بڑے پیمانے پر بینائی قے متعلق بیماریوں کا بھی علاج ممکن ہو سکے گا۔

لیبارٹری میں ان خلیوں کو کیمیائی طور پر راڈ سیلز کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے جو آنکھ کے ریٹینا میں روشنی کی شناخت کرتے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ راڈز مکمل اندھے چوہوں کی آنکھ کے پچھلے حصے میں لگائے جس سے ان میں کچھ بینائی لوٹ آئی۔

چوہوں کے دماغ کے جائزہ سے پتہ چلا کہ اس علاج کے بعد آنکھوں اور دماغ کا برقی رابطہ 50 فیصد تک بحال ہوا۔

تحقیق میں شامل ایک ڈاکٹر، پروفیسر ایٹرڈ لِمب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس تبدیلی کا مطلب ہو گا کہ یہ لوگ پڑھ نہیں سکیں گے لیکن ادھر ادھر جا سکیں گے اور کمرے میں موجود میز کو شناخت کر سکیں گے۔‘

’انہیں ایک کیتلی اور پیالے میں فرق معلوم ہو سکے گا، ان کا معیار زندگی بہت بہتر ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں