انسانی رویے کے چار بنیادی جذباتی ثاثرات

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption محقیقین مختلف ثقافتوں میں انسانی چہروں کے تاثرات کو بھی اپنے مطالعے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں

برطانیہ کی گلاسکو یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق انسان کے پورے رویے کو چار بنیادی جذباتی ثاثرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اس مطالعے میں اس عام خیال کو چیلنج کیا گیا ہے کہ انسان کے چار بنیادی جذبات، خوشی، غمی، خوف، غصہ، حیرت اور نفرت کے ہیں۔

محقیقین نے جذبات کے اظہار کو جانچنے کے لیے نئی تکنیک اور سافٹ ویئر استعمال کیا۔

انھوں نے کہا کہ خوف اور حیرت کے جذبات کا ’اظہار‘ مشترکہ طور پر کھلی آنکھوں سے کیا جاتا ہے جبکہ حیرت اور غصے کا اظہار ناک کے جھریوں سے کیا جاتا ہے۔

نیورو سائنس اور سائیکالوجی انسٹیٹیوٹ کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ ابتدائی اشارے شاید زیادہ بنیادی خطرناک اشاروں کی علامت ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں انسانی چہرے سے ظاہر ہونے والے جذبات میں روایاتی 6 بنیادی جذبات کے تاثرات ایک دوسرے سے مختلف انداز میں عیاں تھے۔

نسبتاً چہرے پر خوشی اور غم کے تاثرات پورے وقت کے دوران بالکل واضح تھے۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر راچل جیک نے کہا کہ’ہمارے نتائج ارتکا کے پیشگوئیوں کے مطابق ہیں جہاں تاثرات اس طرح سے بنے ہوئے ہوتے ہیں کہ دونوں حیاتیاتی اور سماجی ارتکا کا دباؤ ان تاثرات کی کاردگردگی کو بہتر کرتا ہے۔

ڈاکٹر جیک کا کہنا ہے کہ’ہماری تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ انسانی جذبات 6 بنیادی نفسیاتی حصوں پر مشتمل ہے۔اس کے برعکس ہمارا خیال ہے کہ جذبات کے اظہار کے 4 بنیادی تاثرات ہیں۔‘

محقیقین مختلف ثقافتوں میں انسانی چہروں کے تاثرات کو بھی اپنے مطالعے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیائی کے لوگ روایاتی طور پر 6 بنیادی جذبات کے کو مختلف انداز سے سمجھتے اور اور اس کی تشریح کرتے ہیں جو مغرب کے مقابلے میں منھ کی حرکات سے زیادہ آنکھوں کی حرکات پر زور دیتے ہیں۔