بھارتی نژاد ستيا نڈیلا مائیکروسافٹ کے نئے سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ستیا نڈیلا بھارتی شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1992 میں مائیکروسافٹ میں کام شروع کیا

دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نےبھارتی نژاد ستيا نڈیلا کو نئے سی ای او یعنی سربراہ بنانے کا اعلان ہے۔ وہ سٹیو بامر کی جگہ لیں گے۔

نڈیلا فی الحال مائیکروسافٹ کے ’کلاؤڈ اینڈ انٹرپرائز‘ شعبے کے سربراہ ہیں۔ یہ شعبہ کمپنی کے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم اور ڈویلپر ٹولز کو بناتا اور چلاتا ہے۔

اگست میں بامر نے کہا تھا کہ وہ اگلے 12 ماہ میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو یعنی سی ای او کے عہدے کے لیے الگ الگ صنعتوں کے لوگوں کے ناموں کے حوالے سے بحث کافی گرم رہی۔

مائیکروسافٹ نے یہ بھی معلومات دی ہے کہ بل گیٹس کمپنی کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔ گیٹس جلد ہی تکنیکی مشیر کے کردار میں نظر آئیں گے۔

مائیکروسافٹ کے ڈائریکٹر جان تھامسن بل گیٹس کی جگہ کمپنی کے چیئرمین ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بل گیٹس بھی مائیکروسافٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے عہدے چھوڑ رہے ہیں اور اب کمپنی کے مشیر کے طور پر کام کریں گے

تھامسن مائیکروسافٹ کے نئے سی ای او مقرر کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی قیادت بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال بیان دیا تھا کہ اس عہدے کے لیے 100 سے زیادہ امیدواروں کے نام تجویز ہیں۔

46 سالہ نڈیلا مائیکروسافٹ کے 39 سال پرانی تاریخ میں تیسرے سی ای او ہوں گے۔ بھارت میں پیدا ہوئے نڈیلا اس کمپنی سے 1992 میں منسلک ہوئے۔ ان کے پاس الیکٹرانک، کمپیوٹر سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری موجود ہے۔

بل گیٹس نے نڈیلا کے نئے سی ای او بنائے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’تبدیلی کے اس دور میں مائیکروسافٹ کی قیادت کرنے کے لیے ستيا نڈیلا سے بہتر کوئی اور شخص نہیں ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا ’ستيا میں انجینئرنگ کی مہارت، تجارتی دوراندیشی اور لوگوں کو ایک ساتھ لانے کی قابليت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ مائیکروسافٹ نئی مصنوعات اور ترقی کی راہ میں نت نئی بلندیوں کو چھونے کی طرف گامزن ہے۔ ایسے میں ستيا کا تجربہ کمپنی کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ستیا نڈیلا مائیکروسافٹ کمپنی کے تیسرے سی ای او یا سربراہ ہوں گے

کمپنی کے نئے سی ای او نے کہا کہ ’مائیکروسافٹ ان کئی کمپنیوں میں سے ہے جس نے ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے اور ایسی شاندار کمپنی کی قیادت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔‘

ستيا نڈیلا نے مزید کہا کہ ’مائیکروسافٹ کے آگے بڑھنے کی بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا مقصد واضح ہو، ہم تیزی سے سفر جاری رکھیں اور خود میں تبدیلی لانا جاری رکھیں۔ اپنے صارفین کے لیے جلدی جلدی نئی مصنوعات بنانے کی اہلیت میں اضافہ کرنا میرے کام کا بڑا حصہ ہے۔‘

سرمایہ کار عرصے سے ٹیکنالوجی کی قیادت تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو مزید ترقی پسند اور منافع بخش بنانے کے لیے اس میں قیادت تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم ناقدین نے نڈیلا کی قابلیت پر انگلی اٹھائی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ستيا نڈیلا کو مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنی چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں