چینی سے دل کی بیماریاں کیوں؟

Image caption وہ لوگ جو اپنے روزانہ کے حرارے چینی سے حاصل کرتے ہیں ان کے دل کی بیماریوں سے ہلاک ہونے کا خطرہ ان لوگوں کی نسبت زیادہ ہے جو کم چینی کھاتے ہیں

امریکہ میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ میٹھے مشروبات اور مٹھائیاں زیادہ کھانے سے دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

معروف جریدے جیما انٹرنل میڈیسن کی تحقیق کے مطابق روزانہ میٹھے سوڈے والے مشروب کا ایک کین پینے سے دل کی بیماریوں سے ہلاک ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ مٹھائی کھانے سے بھی وزن بڑھ جاتا ہے جو دل کے لیے نقصان دہ ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان خطرات سے لوگوں کو آگاہ ہونا چاہیے۔

اس تحقیق کے لیے چینی کے استعمال اور دل کی بیماریوں سے ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کے ڈیٹا پر نظر ڈالی جائے گی جن کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔

وہ لوگ جو روزانہ کے حرارے چینی سے حاصل کرتے ہیں ان کے دل کی بیماریوں سے ہلاک ہونے کا خطرہ ان لوگوں کی نسبت زیادہ ہے جو کم چینی کھاتے ہیں۔

عالمی صحت کی تنظیم کی تجویز ہے کہ چینی ایک فرد کیے روزانہ کی خوراک میں موجود کل حراروں کا دس فیصد ہونا چاہیے جو مردوں کے لیے 170 گرام اور خاتون کے لیے 50 گرام ہے۔

امریکہ اور برطانیہ میں اکثر جوان اور بچے بہت زیادہ چینی کھاتے ہیں اور چینی کو بہت سارے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ ٹافیاں، بسکٹ، کیک، چاکلیٹ، جوس اور سوڈے والے مشروبات۔

اکثر اشیا پر چینی کی مقدار لکھی ہوتی ہے مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان میں نشاستہ کتنا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر نوید ستار کا کہنا ہے کہ اس بات کی کئی وجوہات ہیں کہ لوگ اتنی بڑی مقدار میں چینی کھانے کے نتیجے میں کیوں غیر صحتمند ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’چینی بذاتِ خود نقصان دہ نہیں ہوتی کیونکہ اسے جسم کی توانائی کے ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر اس کی زیادتی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور اس کے نتیجے میں دل کی بیماریاں بڑھ سکتی ہیں۔‘

اسی بارے میں